Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / وقار انکاؤنٹر پر خاموشی مفادات پر مصلحت کو ترجیح

وقار انکاؤنٹر پر خاموشی مفادات پر مصلحت کو ترجیح

حیدرآباد /10 اپریل (سیاست نیوز) وقار انکاؤنٹر پر مقامی مسلم قیادت کی خاموشی کہیں اخلاقی ذمہ داری سے فرار اور مصلحت پسندی کو ترجیح تونہیں؟۔ یہ ایک ایسا سوال ہے، جو پیر کو نلگنڈہ کے آلیر میں پولیس کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں پانچ زیر دریافت مسلم قیدیوں کی پُراسرار اور مشتبہ حالات میں ہلاکتوں پر اُبھر رہا ہے، جس کی ایک اہم وجہ یہ بھی سمج

حیدرآباد /10 اپریل (سیاست نیوز) وقار انکاؤنٹر پر مقامی مسلم قیادت کی خاموشی کہیں اخلاقی ذمہ داری سے فرار اور مصلحت پسندی کو ترجیح تونہیں؟۔ یہ ایک ایسا سوال ہے، جو پیر کو نلگنڈہ کے آلیر میں پولیس کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں پانچ زیر دریافت مسلم قیدیوں کی پُراسرار اور مشتبہ حالات میں ہلاکتوں پر اُبھر رہا ہے، جس کی ایک اہم وجہ یہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ نام نہاد مسلم قیادت نے اس سنگین واقعہ پر اپنی سیاسی و اخلاقی ذمہ داری کا جرأت مندانہ جمہوری انداز میں کوئی مظاہرہ ہی نہیں کیا۔ جماعت کے قائد نے پہلے روز ٹوئٹر پر ایک مختصر اور محتاط ردعمل کا اظہار کیا اور دوسرے روز اپنی جماعت کے پرچم تلے نہیں، بلکہ مسلم متحدہ محاذ کے نام پر ایک پریس کانفرنس میں رسمی بیان پر اکتفا کیا۔ اس صورت حال کے پیش نظر کئی سوالات ابھر رہے ہیں اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ مقامی مسلم قیادت اپنے دیرینہ شخصی مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ریاستی حکومت یا پولیس پر تنقید اور انکاؤنٹر کی جمہوری انداز میں مذمت سے دانستہ گریز کر رہی ہے۔ مسلم قیادت غالباً اپنے چند قائدین کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات اور بالخصوص چندرائن گٹہ فائرنگ کیس کو ملحوظ رکھتے ہوئے حقیقت پسندی کی بجائے حالات کی نزاکت کے مطابق مصلحت پسندی کو ترجیح دینے میں خیر محسوس کر رہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک ہفتہ کے دوران ہوئے دو پولیس انکاؤنٹرس میں سات مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف نہ کوئی احتجاج کیا گیا اور نہ ہی واقعات کی اعلی سطحی تحقیقات کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوئی مؤثر کوشش کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT