Saturday , December 15 2018

وقار کو اپریل 2012 میں ہی ہلاک کئے جانے کا اندیشہ تھا

حیدرآباد ۔ /16 اپریل (سیاست نیوز) وقار احمد اور اس کے ساتھیوں کو جس انداز میں فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ شبہات ظاہر ہوتے ہیں کہ پولیس نے ایک منصوبہ بند طریقے سے یہ کارستانی انجام دی ہے ۔ وقار احمد کے والد محمد احمد کی جانب سے /25 اپریل 2012 ء کو آندھراپردیش ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو روانہ کئے گئے ایک مکتوب میں انہوں نے اپنے ف

حیدرآباد ۔ /16 اپریل (سیاست نیوز) وقار احمد اور اس کے ساتھیوں کو جس انداز میں فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ شبہات ظاہر ہوتے ہیں کہ پولیس نے ایک منصوبہ بند طریقے سے یہ کارستانی انجام دی ہے ۔ وقار احمد کے والد محمد احمد کی جانب سے /25 اپریل 2012 ء کو آندھراپردیش ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو روانہ کئے گئے ایک مکتوب میں انہوں نے اپنے فرزند کو ورنگل سنٹرل جیل سے حیدرآباد و رنگاریڈی کی عدالت کی منتقلی کے دوران فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ واضح رہے کہ ضلع ورنگل کے جنگاؤں علاقے میں پولیس پارٹی پر مبینہ طور پر حملہ کرنے اور پولیس تحویل سے فرار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اودئے بھاسکر کی زیرقیادت پولیس اسکارٹ پارٹی نے نوجوانوں کے خلاف ایک مقدمہ درج کروایا تھا ۔ باور کیا جاتا ہے کہ فرار ہونے کی کوشش کے بہانے وقار اور اس کے ساتھیوں کو 2012 ء میں ہی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن وقار کے والد کی جانب سے چیف جسٹس ہائیکورٹ کو اس سلسلے میں مکتوب روانہ کرنے سے نوجوانوں کا خطرہ ٹل گیا تھا ۔ لیکن سوریہ پیٹ میں سیمی اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 4 پولیس ملازمین بشمول سب انسپکٹر ہلاک ہوگیا تھا اور دو سیمی کے ارکان کو بھی انکاؤنٹر میں ہلاک کئے جانے کے بعد ریاست میں ماحول گرما گیا تھا ۔ اور اس ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس نے پانچوں نوجوانوں کو موت کی نیند سلادیا ۔ محمد احمد نے اپنے مکتوب میں عدالت کو یہ واضح طور پر بتایا تھا کہ پولیس اسکارٹ پارٹی عدالتی تحویل میں موجود نوجوانوں کو بری طرح اذیتیں دے رہی ہیں اور پولیس کے اس رویہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ایک فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا جاسکتا ہے ۔ مہلوک کے والد نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وقار احمد اور اس کے ساتھیوں کو پولیس تحویل سے فرار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا جاسکتا ہے ۔ لہذا انہیں ورنگل جیل سے منتقل کرکے وشاکھاپٹنم ، نیلور ، کڑپہ یا کسی بھی ریاستی جیل میں انہیں فوری منتقل کیا جائے کیونکہ ورنگل پولیس اسکارٹ کا رویہ انتہائی مشکوک ہے ۔ /14 مئی 2009 ء کو پیش آئے پولیس کانسٹبل رمیش قتل کیس میں وقار احمد ، ڈاکٹر حنیف ، سیف امجد علی ، محمد ذاکر اور اظہار خان کو کیس کی سماعت کیلئے ورنگل سے حیدرآباد کے نامپلی کریمنل کورٹ کو لایا جاتا تھا اور یہ کیس میں برأت یقینی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT