Thursday , December 13 2018

وقت کی اہمیت

نازیہ عشرت اللہ تعالیٰ نے انسان کے بارے میں فرمایا کہ ’’وہ بڑے خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ان چار خصوصیات کے حامل ہیں: (۱) ایمان لانے والے (۲) نیک عمل کرنے والے (۳) ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے والے اور (۴) صبر کی تلقین کرنے والے‘‘۔ (سورۃ العصر)

نازیہ عشرت
اللہ تعالیٰ نے انسان کے بارے میں فرمایا کہ ’’وہ بڑے خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ان چار خصوصیات کے حامل ہیں: (۱) ایمان لانے والے (۲) نیک عمل کرنے والے (۳) ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے والے اور (۴) صبر کی تلقین کرنے والے‘‘۔ (سورۃ العصر)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابن آدم کے دونوں قدم اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹیں گے، جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق دریافت نہ کرلیا جائے: (۱) اس نے عمر کہاں صرف کی؟ (۲) اپنی جوانی کس کام میں خرچ کی؟ (۳) اس نے مال کہاں سے کمایا؟ اور (۴) کہاں خرچ کیا؟ (۵) کتنا عمل کیا اپنے علم میں سے‘‘۔ (ترمذی)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا فرماتے کہ ’’اے اللہ! ہمیں اندھیرے میں نہ رکھ، ہماری کج فہمیوں پر ہمیں نہ پکڑ اور ہمیں وقت سے بے پرواہ نہ بنا‘‘۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! میرے لئے اوقات میں برکت عطا فرما اور انھیں صحیح مصرف میں لانے کی توفیق دے‘‘۔

صوفیۂ کرام فرماتے تھے کہ ’’وقت تلوار کی طرح ہے‘‘۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’تم ہر وقت یہ دیکھتے رہو کہ تم رب سے کتنا قریب ہوئے اور شیطان سے کتنا دُور، جنت کے کتنے قریب ہوئے اور دوزخ سے کتنے دُور‘‘۔
سینٹ آگسٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ وقت کیا ہے؟ تو میں اس کا جواب نہیں دے سکوں گا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ وقت کسے کہتے ہیں اور اس کی تعریف کیا ہونی چاہئے‘‘۔ سرآئزک نیوٹن کا کہنا ہے کہ ’’وقت ایک سمندر ہے، جس میں کائنات کا جہاز تیر رہا ہے‘‘۔ ماہر عمرانیات کا کہنا ہے کہ ’’وقت ہمارے تجربات اور عوامل کا ایک حصہ ہے‘‘۔ عامر بن قیس سے ایک شخص نے کہا: ’’آؤ بیٹھ کر باتیں کریں‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’تو پھر سورج کو بھی ٹھہرالو‘‘۔

حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک سو سے کم نہ ہوگی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ’’کھانے پینے میں جو وقت صرف ہوتا ہے، میں اس پر ہمیشہ افسوس کرتا رہتا ہوں‘‘۔ علامہ شہاب الدین محمود نے اپنی رات کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ پہلے میں آرام و استراحت فرماتے، دوسرے میں اللہ کو یاد کرتے اور تیسرے میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔
یہ کہنا کہ ’’یہ کام کل کریں گے‘‘ ایک دھوکہ ہے۔ اس بارے میں ایک بزرگ نے فرمایا کہ ’’داناؤں کے رجسٹر میں کبھی ’کل‘ کا لفظ نہیں ملتا، البتہ بے وقوفوں کی جنتریوں میں یہ کثرت سے ملتا ہے۔ عقلمندی اس لفظ کو قبول نہیں کرتی، یہ خیالی پلاؤ پکانے والوں کا سہارا ہے۔ کامیابی کی شاہراہ دیکھ کر بے شمار اپاہج یہ کہتے ملیں گے کہ ’’ہم نے اپنی عمر ’کل‘ کا تعاقب کرتے ہوئے گزاردی اور اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھود لی۔ ہم اس دھوکے میں بیٹھے رہے کہ ’کل‘ ہمارے لئے اچھی نعمتیں اور فوائد لے کر آئے گا، مگر ہمیں اب تک اس ’کل‘ کا انتظار ہے‘‘۔

واضح رہے کہ وقت کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ فروخت کیا جاسکتا ہے۔ اسے نہ تو کرایہ پر لے سکتے ہیں اور نہ دے سکتے ہیں اور نہ اسے زندگی سے زیادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ہر انسان صبح اُٹھتا ہے، خواہ امیر ہو یا غریب اسے چوبیس گھنٹے کی ازخود خرچ ہونے والی تھیلی سونپ دی جاتی ہے۔ وقت زندگی ہے، جسے بہتر طورپر استعمال کرکے ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور وقت کو ضائع کرنے والے عناصر کا جائزہ لیں، کیونکہ وقت کا نعم البدل نہیں ہے۔ گھڑی کی جانب دیکھئے! کس تیزی کے ساتھ لمحات گزر رہے ہیں اور ہماری مقررہ زندگی ختم ہو رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT