Thursday , November 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / وقت کی قدر و قیمت

وقت کی قدر و قیمت

میری فیروز بختی ہے کہ مجھے دکن کی ایک گمنام مگر قدآور علمی و روحانی ذات گرامی مفتی محمد ولی اللہ قادری شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کی صحبت بافیض میں بچپن سے رہنے کا شرف حاصل ہوا اور ۹۰ برس سے زائد آپ کی عمر رہی۔ آپ کو ان متعدد اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل رہا، جنھوں نے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انواراللہ فاروقی قدس سرہ کو دیکھا تھا اور ان سے اکتساب فیض کیا تھا۔ آپ کا مطالعہ کافی وسیع تھا، مختلف علوم و فنون کی مختلف کتابیں آپ کے زیر مطالعہ رہیں۔ یہ وہ ہستی تھی، جو شخصیت سازی کا فن جانتی تھی۔ کھوٹے کو کھرا بنانا، عاجز کو قادر بنانا، کمزور کو قوی بنانا، علم کے میدان میں شکست کھائے ہوئے نامراد طالب علم کو حوصلہ دے کر میدان علم و فن کا شہسوار بنانا، مستقبل کا قائد بنانا، بزرگوں کی امانت کا حامل بنانا اور نوجوان نسل کو تیار کرنا آپ کے محاسن و امتیازات میں سے تھے۔ آپ ہر وقت طلبہ کو اپنی زندگی کے سبق آموز قصے سنایا کرتے اور بڑی آسانی سے فلسفہ حیات بیان کرکے انھیں جینے اور کامیابی کے گر سکھاتے۔

مجھے یاد ہے کہ آپ بار بار حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ارشاد نقل فرماتے اور اس پر کافی زور دیتے۔ آج ۳۷سال کی عمر میں مجھے اپنے زندگی میں جس کمی اور خسارہ کا شدت سے احساس ہے، وہ درحقیقت حضرت قبلہ علیہ الرحمہ کی بچپن کی گئی نصیحت پر تاحال عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ نصیحت ہے، جو سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ نیز یہ وہ شے ہے، جو پڑھنے سے، تکرار کرنے سے کچھ فائدہ نہیں دیتی، جب تک کہ اس پر عمل نہ کیا جائے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس پر عمل کرنا فولاد کے چنے چبانا ہے اور جس نے اس پر عمل کرلیا، اس سے بڑھ کر کوئی مجاہد نہیں، اس سے بڑھ کر کوئی صوفی نہیں، اس سے بڑھ کر کوئی عقلمند نہیں۔ حضرت قبلہ بار بار حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل فرماتے: ترجمہ: ’’میں نے صوفیہ کی خدمت میں دس برس گزارے ہیں (اتنے طویل عرصہ میں) میں نے ان سے صرف اور صرف دو ہی چیزیں حاصل کی ہیں (۱) اپنے وقت کی حفاظت (۲) اپنے نفس کی حفاظت‘‘۔
حالیہ دنوں ملک شام کی عظیم علمی شخصیت حضرت عبد الفتاح بن محمد ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ (۱۹۱۷۔۱۹۹۷ء) جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد سے ہیں، کی مشہور تصنیف ’’قیمۃ الزمن عند العلماء‘‘ (علماء کرام کے پاس وقت کی قدر) زیر مطالعہ ہے، جس میں آپ نے الفاظ کے اضافہ کے ساتھ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے اس ارشاد کو نقل کیا ہے: ’’ترجمہ: ’’حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں صوفیہ کی صحبت میں رہا، پس میں نے ان سے صرف دو ہی حرف سیکھے ہیں (۱) ان کا کہنا ہے کہ وقت تلوار کے مانند ہے، اگر تم اس کو نہ کاٹوگے وہ تم کو کاٹ دے گی (۲) تمہارا نفس، اگر تم نفس کو حق میں مشغول نہ رکھو تو وہ تم کو باطل میں مشغول کردے گا‘‘۔
یہی دو نصیحتیں ہیں، جن پر افراد کی ترقی اور قوموں کا عروج موقوف ہے اور ان نصیحتوں کو نظرانداز کرنے میں شخصی ناکامی اور ملت کا زوال ہے۔ اگر ہم اپنی شخصی ناکامی و خسارہ کا جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ان دو چیزوں پر غلبہ نہ پانے اور ان کے صحیح طورپر استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہم ناکام و شکست خوردہ ہیں۔

اللہ تعالی کی انسان پر بے شمار نعمتیں ہیں، کچھ نعمتیں بنیاد اور اصول کا درجہ رکھتی ہیں اور کچھ نعمتیں جزئی و فروعی ہوتی ہیں۔ کچھ نعمتیں ظاہری ہوتی ہیں اور کچھ باطنی۔ کچھ نعمتوں کے فوائد دنیوی ہوتے ہیں اور کچھ نعمتوں کے فوائد اخروی ہوتے ہیں۔ غرض انسان پر اللہ تعالی کی اس قدر نعمتیں ہیں کہ ساری انسانیت مل کر بھی اس کی نعمتوں کا احاطہ و ادراک نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اگر تم سب مل کر اللہ تعالی کی ایک نعمت کو شمار کرنا چاہو تو تم اس کا احسان شمار نہیں کرسکتے۔ یقیناً انسان بڑا ظالم و ناشکرا ہے‘‘۔ (سورہ ابراہیم۔۳۴)
اللہ تعالی کی بندہ پر سب سے عظیم نعمت اس کو دین اسلام کی توفیق دینا اور اپنے منشاء و مرضی کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت دینا ہے۔ نیز صحت و سلامتی بھی بنیادی و اہم نعمتوں میں سے ہے۔ اعضاء و جوارح کا بیماری و امراض سے محفوظ ہونا اور بندے کا اللہ کی عطا کردہ سماعت، بصارت وغیرہ اعضائے جسم سے کماحقہ استفادہ کرنا اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں میں شامل ہے۔ منجملہ ان کے ایک اہم نعمت علم بھی ہے۔ یہ نعمت کبریٰ ہے، انسان کی سعادت و ترقی اسی سے وابستہ ہے۔ دین و دنیا کی کامیابی و کامرانی اسی پر موقف ہے۔ مخفی مباد کہ ان نعمتوں میں ایک نہایت گراں قدر نعمت وقت اور زمانہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی قرآن مجید میں ساری انسانیت پر اپنی بنیادی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اللہ تعالی وہی ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی کو نازل کیا۔ پھر اس سے تمہارے لئے روزی میوے بنائے اور تمہارے لئے کشتی کو مسخر کیا، جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور ندیوں کو تمہارے تابع کیا اور تمہارے لئے چاند و سورج کو دستور کے ساتھ برابر کام پر لگایا۔ تمہارے لئے رات اور دن کو کام پر لگایا اور تم نے جو مانگا ہر چیز تم کو دی اور اگر تم اللہ تعالی کے احسان گنو تو تم ہرگز اس کو شمار نہیں کرسکتے، یقیناً انسان بڑا ظالم و ناشکرا ہے‘‘ سورۂ ابراہیم۔۳۲تا۳۴) اس آیت مبارکہ میں رات اور دن کی نعمت کا ذکر ہے، جس سے وقت اور زمانہ مراد ہے، جو انسان پر اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے۔ ارشاد الہی ہے: ’’کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی، جس میں سوچنے والا سوچ لے اور تمہارے پاس ڈرانے والا نہیں آیا، پس تم چکھو پس ظالمین کے لئے کوئی مددگار نہیں‘‘۔ (سورۂ فاطر۔۳۷)
وقت اور زمانہ کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کہیں زمانہ کی قسم کھائی، کہیں دن کی، کہیں صبح کے وقت کی، کبھی سورج کے چڑھتے وقت کی، کبھی شفق کی۔ ارشاد الہی ہے: ’’قسم ہے رات کی جب چھا جائے اور دن کی جب روشن ہو‘‘۔ ’’قسم سورج کی اور دھوپ چڑھتے وقت کی‘‘۔ ’’قسم ہے رات کی جب پیٹ پھیرے اور صبح کی جب وہ روشن ہو‘‘۔ ’’قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی‘‘۔ ’’سو قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی اور رات کی جو چیزیں اس میں سمٹ جاتی ہیں‘‘۔ ’’زمانہ کی قسم یقیناً انسان خسارہ میں ہے‘‘۔ (سورۃ اللیل، سورۃ المدثر، سورۃ الفجر، سورۃ الانشقاق، سورۃ العصر)

بخاری، ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دو نعمتیں ایسی ہیں، جس میں بہت سے لوگ خسارہ میں ہیں، صحت اور فرصت‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اکثر و بیشتر لوگ صحت اور فرصت سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھاتے، بلکہ اس کو ضائع کردیتے ہیں۔ اگر وہ صحت کی قدر کرتے اور بروقت کام کاج انجام دے لیتے تو نقصان نہ اٹھاتے، بلکہ نفع و آرام میں رہتے اور جب صحت بگڑ جائے اور وقت فوت ہو جائے تو سوائے ندامت و محرومی اور حسرت و پریشانی کے کچھ حاصل نہیں۔ ارشاد الہی ہے: ’’اب کہاں ان کو (اس کا) حاصل ہونا ہے دور دراز مقام سے‘‘۔ (سورہ سباء۔۵۲)
اللہ سبحانہ و تعالی کی قیامت میں جنتیوں کو بشارت دیتے ہوئے فرمائے گا کہ ’’تم خوشگوار کھاؤ اور پیو، بدلہ ہے ان (اعمال) کا جو تم نے پچھلے دنوں میں آگے بھیجا‘‘ (سورۃ الحاقہ۔۲۴) اور اہل جہنم سے فرمائے گا: ’’یہ بدلہ ہے اس کا جو زمین میں ناحق اتراتے پھرتے تھے اور اس کا جو تم اکڑتے تھے‘‘ (سورۃ المؤمن۔۷۵) حیات و زندگی جو درحقیقت وقت و زمانہ کا امتزاج ہے، اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے، جس نے اس کی قدر کی اور اعمال صالحہ و طاعات الہیہ میں گزاری، وہ کامیاب ہے اور جس نے غفلت و خواہشات میں ضائع کی وہ ناکام و نامراد ہے۔ (جاری ہے)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT