Wednesday , August 22 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف اراضی کا ایک اور نیا اسکام

وقف اراضی کا ایک اور نیا اسکام

r ملکاجگری میں 4 سروے نمبرات وقف ریکارڈ سے غائب
r ریونیو ریکارڈ میں وقف درج
r وقف مافیا اور بورڈ کے عہدیداروں کی ملی بھگت کا شبہ
r درگاہ میر محمودؒ اراضی کی بندر بانٹ
حیدرآباد ۔27۔ نومبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی جانب سے مبینہ طور پر این او سی کی اجرائی کے ذریعہ وقف اراضی کو خانگی قرار دینے کا اسکام ابھی پولیس تحقیقات کے مرحلہ میں ہے لیکن ملکاجگری ضلع کی کسی اراضی کا ایک اور معاملہ منظر عام پر آیا ہے جس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں 4 سروے نمبرات بحیثیت وقف درج ہیں لیکن وقف بورڈ کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ درگاہ حضرت میر محمود کے تحت ملکاجگری میں 300 ایکر سے زائد اوقافی اراضی موجود ہے جو مختلف سروے نمبرات کے تحت ہے۔ اراضی کے تحفظ میں بورڈ کی ناکامی اور وقف مافیا سے عہدیداروں کی ملی بھگت کے نتیجہ میں اس اراضی کو خانگی قرار دیتے ہوئے غیر مجاز قبضے کرلئے گئے۔ روزنامہ سیاست نے جو اسکام منظر عام پر لایا تھا، اس میں وقف بورڈ کی جانب سے تین سروے نمبرات کے تحت موجود 4 ایکر سے زائد اراضی کو غیر اوقافی قرار دیا گیا تھا۔ اسی مکتوب کی بناء پر کمشنر پرنٹنگ نے 17 اگست 2017 ء  کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 4 ایکر 5 گنٹے وقف اراضی کو خانگی قرار دے دیا۔ اس معاملہ کی جانچ پولیس کے حوالے کی گئی ، ابھی تحقیقات ابتدائی مرحلہ میں کہ ایک اور اسکام ابھر کر آیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملکاجگری ضلع کی اس اراضی کو وقف مافیا نے من مانی طریقہ سے لوٹ لیا ہے اور وقف بورڈ کے نام پر احکامات جاری کئے گئے ۔ تازہ ترین انکشاف میں پتہ چلا ہے کہ ملکاجگری ریونیو حکام کے پاس سروے نمبر 647 ، 392/3 ، 392/4 اور 392/6 کو وقف اراضی کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے لیکن 1989 ء کے وقف گزٹ  میں ان سروے نمبرات کا کوئی ذکر نہیں۔ گزٹ میں سروے نمبرات 648 ، 659 اور 660 کا تذکرہ موجود ہے جنہیں وقف مافیا نے خانگی قرار دیتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کرایا ۔ وقف گزٹ میں سروے نمبر 647 کس طرح شامل نہیں ہوا حالانکہ یہ صد فیصد اوقافی اراضی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کے ریکارڈ اور گزٹ میں 392/1 کا ذکر کیا گیا لیکن اس کے تحت دیگر تین سروے نمبرات کا کوئی تذکرہ نہیں۔ اس طرح وقف اور ریونیو ریکارڈ میں تضاد دیکھا جارہا ہے۔ عام طور پر ریونیو حکام وقف اراضی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں لیکن یہاں تو معاملہ الٹا ہے۔ 4 سروے نمبرات ریونیو ریکارڈ میں بحیثیت وقف درج ہیں لیکن وقف بورڈ کے گزٹ میں یہ نمبرات شامل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب کس کے ریکارڈ کو درست سمجھا جائے۔ ظاہر ہے کہ ریونیو حکام نے مکمل جانچ کے بعد ہی ان چاروں سروے نمبرات کو اپنے ریکارڈ میں شامل کیا ہوگا۔  ان 4 سروے نمبرات کے تحت 15 ایکر سے زائد اراضی بتائی جاتی ہے ۔ شبہ کیا جارہا ہے کہ وقف مافیا نے جس طرح وقف بورڈ سے جعلی این او سی حاصل کیا ، اسی طرح ان چاروں  سروے نمبرات کے سلسلہ میں بھی دھاندلیا کرتے ہوئے اسے وقف گزٹ سے غائب کردیا گیا ہے ۔ اس معاملہ کی بھی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ مقامی افراد کا ماننا ہے کہ  اگر درگاہ حضرت میر محمود کے تحت موجود مکمل اراضی کا دوبارہ سروے کیا جائے اور عہدیدار دلچسپی لیں تو کئی فرضی دستاویزات منظر عام پر آئیں گے جنہیں وقف بورڈ عہدیداروں کی ملی بھگت سے جاری کیا گیا۔ ملکاجگری کے ریونیو حکام حیرت میں ہے کہ ان کے پاس درج 4 سروے نمبرات اور ا س کے تحت موجود اوقافی اراضی وقف ریکارڈ میں کس طرح درج نہیں ؟ بتایا جاتا ہے کہ گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ جن تین سروے نمبرات کی جگہ تین نئے سروے نمبرات شامل کئے گئے لیکن نئے شامل کردہ سروے نمبرات کی 5 ایکر 15 گنٹے اراضی پر مکمل قبضے ہیں جبکہ این او سی کے تحت جن سروے نمبرات کو خانگی قرار دیا گیا ہے ، اس کے تحت کھلی اراضی ہے اور بآسانی پلاٹنگ کی جاسکتی ہے۔
TOPPOPULARRECENT