Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف اراضی کو حکومت سے واپس لینے شیخ محمد اقبال کی مساعی

وقف اراضی کو حکومت سے واپس لینے شیخ محمد اقبال کی مساعی

قیمتی اراضیات پر 10 تا20 روپئے ماہانہ کرایہ ، اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود اے پی کی پریس کانفرنس

قیمتی اراضیات پر 10 تا20 روپئے ماہانہ کرایہ ، اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود اے پی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ (سیاست نیوز) حکومت کی تحویل میں موجود اوقافی اراضیات کو واپس لینے کیلئے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود آندھراپردیش شیخ محمد اقبال نے مساعی کا آغاز کیا ہے۔ تشکیل وقف بورڈ سے قبل حکومت کی جانب سے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں ہزاروں ایکر وقف اراضی کو اس وقت کی حکومتوں نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور آج ان قیمتی اراضیات کے معاوضہ کے طور پر ماہانہ 10 تا 20 روپئے ادا کئے جارہے ہیں۔ اسپیشل سکریٹری آندھراپردیش شیخ محمد اقبال نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان تلخ حقائق کا انکشاف کیا اور کہا کہ وہ آندھراپردیش میں اس طرح کی اراضیات کی نشاندہی کا آغاز کرچکے ہیں۔ بہت جلد تمام ضلع کلکٹرس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان اراضیات کو واپس کرنے کی خواہش کی جائے گی جنہیں 1954 ء میں وقف بورڈ کی تشکیل سے قبل حکومت نے حاصل کرلیا تھا۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ میں اس طرح کی ہزاروں ایکر قیمتی اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پریس کانفرنس میں موجود چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ سلطان محی الدین نے اعتراف کیا کہ حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر علاقوں میں اس طرح کی قیمتی اراضیات حکومت کی تحویل میں ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ وقف قرار دی گئی جائیداد یا اراضی تاقیامت وقف رہتی ہے۔ اس اعتبار سے وقف بورڈ کی تشکیل سے قبل وقف کی گئی اراضیات ابھی بھی وقف تصور کی جانی چاہئے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اراضیات کو وقف بورڈ کی تحویل میں دیدیں تاکہ ان کی ترقی سے ہونے والی آمدنی اقلیتی بہبود پر خرچ کی جاسکے۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ اگر وقف بورڈ کو دونوں ریاستوں میں حکومت اراضیات واپس کردے تو انہیں بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے رقم منظور کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وقف بورڈ ان اراضیات سے حاصل ہونے والی آمدنی اقلیتی بہبود پر خرچ کرسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک چتور ، سریکا کلم ، اننت پور اور وشاکھاپٹنم میں ہزاروں ایکر ایسی اراضیات کی نشاندہی کی گئی جنہیں 1910 تا 1920 ء کے دوران اس وقت کی حکومتوں نے حاصل کرلیا تھا ۔ انہوں نے کہا اب جبکہ اوقافی اداروں کیلئے بورڈ قائم ہوچکا ہے لہذا حکومت کو اپنی تحویل میں موجود اوقافی اراضیات بورڈ کے حوالے کرنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کو نئے قانون کے تحت اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ ان اراضیات پر اپنی دعویداری پیش کرسکے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف ایکٹ کے دفعہ 28 کے تحت آندھراپردیش کے ضلع کلکٹرس کو بہت جلد مکتوب روانہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش میں موجودہ وقف اراضیات ، ان پر ناجائز قبضے ، آمدنی میں اضافہ اور اوقافی اداروں کے کرایے کے مسئلہ پر وہ مسلسل عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ محمد اقبال نے کہا کہ وقف کا تصور کوئی نیا نہیں ہے بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے یہ تصور پایا جاتا ہے۔ اس وقت سے آج تک وقف کی گئی جائیدادوں اور اراضیات کا شمار بحیثیت وقف ہی ہوگا۔ لہذا وقف بورڈ کی عدم موجودگی سے آزادی سے قبل وقف کی گئی اراضیات واپس لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش میں تقریباً 67000 ایکر اوقافی اراضی موجود ہے جس کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ریونیو اور پولیس کے تعاون سے ناجائز قبضوں کی برخاستگی کے لئے ہر ضلع میں خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی۔ انہوں نے تلنگانہ کے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کی تحویل میں موجود اراضیات کی واپسی کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل دانش مند شخصیتوں اور قائدین کو چاہئے کہ وہ اس جانب توجہ دیں۔

TOPPOPULARRECENT