Wednesday , December 12 2018

وقف اراضی کی فروخت میں دھوکہ دہی،پولیس میں ایک وکیل کے خلاف فوجداری کیس

بودھن۔25 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سرکل انسپکٹر پولیس بودھن مسٹر شنکریا نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ آندھرا پردیش کی ہدایت پر نظام آباد کے ایک وکیل محمد قاسم کو دفعات 477 ، 420 ، 120B کے تحت حراست میں لے کر گزشتہ رات دیر گئے منصف مجسٹریٹ بودھن کی قیام گاہ پر پیش کیا۔ فاضل جج نے محروس ایڈوکیٹ کو مشروط ضمانت پر رہا کردیا۔ تفصیلات کے بموجب

بودھن۔25 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سرکل انسپکٹر پولیس بودھن مسٹر شنکریا نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ آندھرا پردیش کی ہدایت پر نظام آباد کے ایک وکیل محمد قاسم کو دفعات 477 ، 420 ، 120B کے تحت حراست میں لے کر گزشتہ رات دیر گئے منصف مجسٹریٹ بودھن کی قیام گاہ پر پیش کیا۔ فاضل جج نے محروس ایڈوکیٹ کو مشروط ضمانت پر رہا کردیا۔ تفصیلات کے بموجب بودھن شہر کی قدیم مسجد ناد علی کی 13 ایکر 13 گنٹے اراضی کو صفیہ بیگم اور سید ریاض الدین کے نام ORC کی اجرائی کیلئے مذکورہ ایڈوکیٹ نے خود کو وقف بورڈ کا اسٹانڈنگ کمیٹی ممبر ظاہر کرتے ہوئے بودھن آر ڈی او کو مراسلہ روانہ کیا تھا

جس کے باعث مذکورہ دونوں افراد کو وقف اراضی کو فروخت کرنے میں راہ ہموار ہوگئی تھی۔ مسجد انتظامی کمیٹی کے افراد نے محمد قاسم نامی ایڈوکیٹ کو فرضی اسٹانڈنگ کمیٹی ممبر قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف چیف ایگزیکٹیو آفیسر آندھرا پردیش سے رجوع ہوتے ہوئے تادیبی کارروائی کرنے کی خواہش کی۔ اے پی وقف بورڈ نے 31 ڈسمبر 2013ء کو محمد قاسم کے خلاف کریمنل کیس درج کرنے پولیس کو ہدایت جاری کی۔ بعدازاں مسجد انتظامی کمیٹی کی مسلسل نمائندگی پر 5 جنوری 2014ء کو محمد قاسم کے خلاف FIR درج کیا گیا اور جمعہ کے روز کمیٹی کے ارکان کے احتجاج پر مذکورہ وکیل کو بودھن پولیس نے نظام آباد پہونچ کر حراست میں لے لیا۔ 22 فروری 2011ء کو ضلع جوائنٹ کلکٹر نے آر ڈی او بودھن کی جانب سے جاری کردہ ORC کالعدم کرنے کے احکامات جاری کئے۔ جوائنٹ کلکٹر نظام آباد کے فیصلے کے خلاف صفیہ بیگم اور سید ریاض الدین کے وکلاء ہائیکورٹ حیدرآباد سے رجوع ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT