Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / وقف بورڈ اسکام کی جانچ کے لیے ایف آئی آر درج

وقف بورڈ اسکام کی جانچ کے لیے ایف آئی آر درج

سی بی سی آئی ڈی سے علحدہ تحقیقات کا فیصلہ، این او سی پر دستخط کا مسئلہ غیر واضح،حالیہ برسوں کے تمام فیصلوں کی تحقیقات کرنے محمد سلیم کا اعلان
’سیاست‘ کے سنسنی خیز انکشاف پر ہلچل

حیدرآباد۔/25نومبر، ( سیاست نیوز) وقف اراضی کو خانگی قرار دیتے ہوئے وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ این او سی کے روز نامہ ’ سیاست‘ کی جانب سے انکشاف کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ کے اجلاس میں اس مسئلہ پر گرماگرم مباحث ہوئے۔ صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں اس مسئلہ پر ارکان نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی سے وضاحت طلب کی۔ منان فاروقی کی دستخط سے 26 مئی 2017 کو کلکٹر ملکاجگری کے نام پر مکتوب روانہ کیا گیا تھا، اس مکتوب پر دستخط کے سلسلہ میں منان فاروقی کے غیر واضح موقف کو دیکھتے ہوئے بورڈ نے اس معاملہ کی تحقیقات کے لئے پولیس عابڈز میں ایف آئی آر درج کرایا ہے۔ اس کے علاوہ سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا جس کی ریاستی حکومت سے سفارش کی جائے گی۔ بورڈ نے اس معاملہ کی انتظامی جانچ کیلئے 3 ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ملک معتصم خاں، مرزا انور بیگ اور ڈاکٹر صوفیہ بیگم کو شامل کیا گیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر سے وضاحت طلبی پر انہوں نے اس طرح کے کسی این او سی کی اجرائی سے انکار کیا اور کہا کہ کلکٹر کو روانہ کردہ مکتوب پر ان کے دستخط موجود ہے لیکن یہ دستخط کمپیوٹر تکنیک سے چسپاں کردی گئی ہے۔ بورڈ نے ابتدائی جانچ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس معاملہ کی کوئی فائیل موجود نہیں اور نہ ہی کسی متعلقہ سیکشن میں اس فائیل سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود ہے۔ وقف مافیا نے بورڈ کے اندرونی عناصر سے ملی بھگت کے ذریعہ یہ فرضی این او سی تیار کرتے ہوئے اس پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے دستخط کو جوڑ دیا۔ اس این او سی میں ملکاجگری میں 3 سروے نمبرات کے تحت 4 ایکر 5 گنٹے اراضی کے وقف نہ ہونے کی بات کہی گئی۔ یہ اراضی درگاہ حضرت میر محمود پہاڑی کے تحت ہے۔اس اسکام میں نہ صرف جعلی این او سی جاری کی گئی بلکہ اس این او سی کے حق میں گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں مذکورہ اراضی کو وقف سے علحدہ بتایا گیا ہے۔ وقف بورڈ نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے والے سرکاری ادارہ سے تفصیلات طلب کی ہیں جس میں اس بات کا انکشاف ہوگا کہ گزٹ نوٹیفکیشن کیلئے کس نے درخواست داخل کی اور کیا دستاویزات پیش کئے جس کی بنیاد پر گزٹ میں ترمیم شائع کی گئی۔ گزٹ کی اشاعت کیلئے فیس داخل کرنی پڑتی ہے اور کس نے فیس داخل کی اس کا نام بھی منظر عام پر آسکتا ہے۔ روز نامہ ’ سیاست‘ میں انکشاف کے ساتھ ہی وقف بورڈ کے آج کے اجلاس میں یہ مسئلہ چھایا رہا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنشین محمد سلیم نے بتایا کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے اجلاس میں وضاحت کی کہ این او سی سے متعلق کوئی فائیل ان کے پاس نہیں پہنچی لہذا دستخط کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ محمد سلیم نے کہا کہ اس طرح کی فائیلیں صدر نشین کے اجلاس سے ہوکر گزرتی ہیں لیکن این او سی سے متعلق کوئی فائیل انہیں پیش نہیں کی گئی۔ محمد سلیم نے کہا کہ پولیس میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور جو بھی قصور وار پائے جائیں انہیں فی الفور معطل کیا جائے گا۔ قرارداد کی نقل چیف منسٹر، چیف سکریٹری اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو روانہ کی جارہی ہے تاکہ حکومت سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کی سفارش کرے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں 1969 سے آج تک جاری کردہ این او سیز کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تمام اسپیشل آفیسرس اور چیف ایکزیکیٹو آفیسرس کے فیصلے تحقیقات کے دائرہ میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس عہدیدار کے دور میں بھی بے قاعدگیاں پائی جائیں گی ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جعلی این او سی کے سلسلہ میں ضلع کلکٹر ملکاجگری کو مکتوب روانہ کیا گیا اور ریکارڈ کے ساتھ عہدیداروں کی ٹیم بھی روانہ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 1969 میں آندھرا پردیش وقف بورڈ کی جانب سے جس قرارداد کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ خود بھی وقف قانون کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1989 کے گزٹ میں مذکورہ سروے نمبرات کو وقف قرار دیا گیا ہے جس کا ریکارڈ بورڈ میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وقف ریکارڈ کے تحفظ اور ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کیلئے مہر بند کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا اس کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی نے وضاحت کی کہ این او سی سے متعلق فائیل سروے، پروٹیکشن اور رینٹ سے متعلق کسی سیکشن سے نہیںگذری ہے اور نہ ہی بورڈ نے کوئی لیٹر جاری کیا ہے۔ اراضی سے متعلق وقف ہونے کا ثبوت بورڈ میں موجود ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ بورڈ کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور پتہ نہیں اس طرح کتنے جعلی این او سی جاری کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کو تباہ کیا گیا۔ لہذا وقف بورڈ کے تمام معاملات کی جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقف بورڈ کو اسی حال پر چھوڑ دیا گیا تو آئندہ 10 برسوں میں تمام جائیدادیں فروخت کردی جائیںگی اور بورڈ تباہ ہوجائیگا۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں تازہ اسکام سے واقف کرائیں گے اور مکمل جانچ کی درخواست کریں گے تاکہ بورڈ میں ہر سطح کے ملازمین اور عہدیداروں کی بے قاعدگیوں کا پتہ چلایا جاسکے۔ چیف سکریٹری کو بھی رپورٹ روانہ کی جائے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT