Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ تقررات اسکام ، ملازمین کی ترقی مسدود

وقف بورڈ تقررات اسکام ، ملازمین کی ترقی مسدود

25 ستمبر تک تقررنامہ پیش کرنے کی ہدایت، ملازمین کو میموز کی اجرائی
حیدرآباد۔/16ستمبر، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ میں تقررات کے اسکام کی جانچ کے پیش نظر آئندہ چند ماہ تک موجودہ ملازمین میں کسی کو ترقی نہیں دی جائے گی۔ بورڈ نے تمام عہدیداروں اور ملازمین کو 25 ستمبر تک تقرر کے احکامات اور تعلیمی قابلیت سے متعلق اسناد پیش کرنے کی ہدایت دی ہے اور اس سلسلہ میں ہر ملازم کو علحدہ میمو جاری کیا جارہا ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں سے لیکر درجہ چہارم ملازمین تک ہر کسی کو یہ تفصیلات داخل کرنا لازمی ہوگا۔ مستقل اور عارضی ملازمین پر بھی یہ شرط لاگو ہوگی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی نے بتایا کہ بورڈ نے بے قاعدگیوں کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے اور تمام کے اسنادات کی جانچ کے بعد ہی حقیقی صورتحال کا پتہ چلے گا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق 35 ملازمین تقررات اور اسنادات کے سلسلہ میں شبہات کے گھیرے میں ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے اسنادات پیش کرنے کی شرط کے بعد سے ملازمین اور عہدیداروں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے اور ملازمین کی تنظیمیں خود کو بے بس محسوس کررہی ہیں۔ وقف بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی اور بعض گوشوں کی جانب سے تحقیقات کی مخالفت کی جارہی ہے۔ بورڈ کی تشکیل فبروری میں عمل میں آئی تھی اور اپریل میں 3 سابق عہدیداروں کے دوبارہ تقرر کیلئے بورڈ کے اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے تقررات کی مخالفت کی جس پر بورڈ نے دوبارہ اس تجویز کو منظوری دی۔ تین سابق عہدیداروں میں دو کا تقرر کیا گیا اور ان میں سے ایک کو صدرنشین وقف بورڈ کا او ایس ڈی اور ایک ریٹائرڈ عہدیدار کو ایکزیکیٹو آفیسر انچارج بورڈ اُمور مقرر کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق دوبارہ تقرر کئے گئے ایک ریٹائرڈ عہدیدار پر ملازمت کے دوران بے قاعدگیوں کے الزامات تھے اور انہیں معطل بھی کیا گیا لیکن بورڈ کے ایک رکن کی سفارش پر دونوں کا دوبارہ تقرر عمل میں آیا ہے۔ سفارش کردہ تیسرے نام کا ابھی تک تقرر نہیں کیا گیا۔ وقف بورڈ کی قرارداد مورخہ 10اپریل 2017 کے روز نامہ’سیاست‘ میں افشاء کے بعد آج وقف بورڈ میں کافی ہلچل دیکھی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین نے قرارداد کی نقل میڈیا کے ہاتھ لگنے پر ناراضگی جتائی۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ قرارداد آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت حاصل کی گئی ہے۔ بورڈ کے معاملات اور خاص طور پر انتظامی اُمور میں سیاسی مداخلت اور بعض ارکان کے دباؤ کے سبب چیف ایکزیکیٹو آفیسر آزادانہ طور پر خدمات انجام دینے میں خود کو بے بس محسوس کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی بھی تقررات کے سلسلہ میں مختلف گوشوں سے سفارشات کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض افراد کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود کی جانب سے سفارش کی گئی لیکن جاریہ اسکام کو دیکھتے ہوئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے تقررات کے مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیدار اور ملازمین اسنادات کی طلبی کے فیصلہ سے ناخوش ہیں۔ بورڈ میں اقرباء پروری کا سلسلہ گزشتہ 20 برسوں سے جاری ہے اور ایک ہی گھر کی 3 نسلیں وقف بورڈ سے وابستہ رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 45 ملازمین ایسے ہیں جو کسی نہ کسی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ تقررات کے سلسلہ میں سابق میں سفارشات کو ترجیح دی گئی اور قابلیت کے بغیر ہی بھاری تنخواہوں کا تعین کیا گیا۔ بورڈ نے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کی سفارش تو کی ہے لیکن اس کے آغاز کے سلسلہ میں مختلف گوشوں میں شبہات پائے جاتے ہیں۔ اگر تحقیقات کی جائیں تو سابق کے بعض صدورنشین، ارکان اور اعلیٰ عہدیداروں کے نام منظر عام پر آسکتے ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT