وقف بورڈ دفتر کوکیوں مہربند کیا گیا؟

حیدرآباد ہائیکورٹ کی حکومت تلنگانہ سے وضاحت طلب
حیدرآباد ۔14۔ نومبر (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ نے تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اِس بات کی وضاحت کرے کہ کس قانون کے تحت تلنگانہ وقف بورڈ کے دفتر کو مہربند کیا گیا اور تمام فائیلوں اور ریکارڈ کو ضبط کیا گیا ہے؟ کارگذار چیف جسٹس رمیش رنگا ناتھن اور جسٹس ابھینند شوالی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت کی۔ ڈیویژن بنچ مفاد عامہ کی ایک درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں ریاستی حکومت کے اختیارات کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہاکہ منتخبہ بورڈ کی موجودگی کے باوجود حکومت نے یہ کارروائی کی۔ وقف ایکٹ کے تحت حکومت کو اِس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے جب حکومت کا ردعمل جاننا چاہا اُس وقت سرکاری وکیل بی وی پرساد نے بتایا کہ بے قاعدگیوں کا پتہ چلنے پر یہ کارروائی کی گئی۔ عدالت نے آئندہ سماعت جمعرات کو مقرر کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT