Monday , May 28 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ سے جعلی این او سی اجرائی کی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس

وقف بورڈ سے جعلی این او سی اجرائی کی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس

منان فاروقی سے وضاحت طلبی، دستخط میری ، لیکن دھوکے سے حاصل کی گئی، ملازمین کے رول پر گہری نظر
حیدرآباد۔ 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ سے جاری کردہ جعلی این او سی معاملہ کی جانچ کے لیے مقررہ تین رکنی کمیٹی کا اجلاس آج حج ہائوز میں منعقد ہوا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی موجودگی میں کمیٹی کے تین ارکان ملک معتصم خان، مرزا انور بیگ اور صوفیہ بیگم نے جعلی این او سی کے معاملہ میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی سے وضاحت طلب کی۔ میڑچل ملکاجگیری ضلع میں 6 ایکر اوقافی اراضی کو خانگی قرار دیتے ہوئے 26 مئی 2017ء کو این او سی جاری کی گئی تھی۔ ضلع کلکٹر ملکاجگیری کے نام چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے دستخط سے مکتوب جاری کیا گیا تھا۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے اس اسکام کے انکشاف کے بعد وقف بورڈ کے تین ارکان پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ منان فاروقی نے کمیٹی کے ارکان سے وضاحت کی کہ مکتوب پر اگرچہ دستخط ان کی ہے لیکن انہوں نے اس طرح کے کوئی لیٹر پر دستخط نہیں کیے۔ ہوسکتا ہے کہ دیگر احکامات کے ساتھ اس مکتوب پر دھوکہ سے دستخط حاصل کرلی گئی ہو۔ انہوں نے کمیٹی کو ان تمام دستاویزات کی نقل حوالے کی جو کمشنر پرنٹنگ اینڈ اسٹیشنری سے حاصل کی گئی۔ گزٹ نوٹیفیکیشن میں تصحیح کے لیے جو مکتوب حوالہ کیا گیا اس میں منان فاروقی کے دستخط ان کی اصلی دستخط سے میل نہیں کھارہی ہے۔ لہٰذا کمیٹی نے اس اسکام میں منظم ٹولی کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے شبہ ظاہر کیا کہ اس معاملہ میں بورڈ کے بعض عارضی ملازمین اور بیرونی عناصر ملوث ہوسکتے ہیں۔ بورڈ کا کوئی مستقل ملازم اس طرح کی جرأت نہیں کرسکتا۔ تاہم پولیس تحقیقات میں مستقل اور عارضی ملازمین کے رول کی گہرائی سے جانچ کی جارہی ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے این او سی کے حصول کے لیے درخواست داخل کرنے والے نکا نرسنگ رائو سے عدم واقفیت کا اظہار کیا۔ انہو ںنے سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی اس کی نشاندہی سے معذوری ظاہر کی۔ وقف بورڈ میں نرسنگ رائو کی آمد اور اس کے مستقل ملاقاتیوں کے بارے میں بھی چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے لاعلمی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے ضلع کلکٹر اور ریونیو عہدیداروں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے وقف اراضی کی منتقلی کو روک دیا ہے اور وقف اراضی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این او سی کا مکتوب اگرچہ ضلع کلکٹر کے نام پر ہے لیکن اسے صرف آر ڈی او کے حوالے کیا گیا اور وہ بھی کسی متعلقہ شخص نے حوالے کیا۔ کلکٹر اور آر ڈی او کو یہ مکتوب وصول نہیں ہوا۔ وقف بورڈ میں نرسنگ رائو کی درخواست یا اس سے متعلق کوئی اندراج انورڈ اور آئوٹ ورڈ سیشکن میں درج نہیں ہے اور نہ ہی این او سی سے متعلق کوئی فائیل تیار کی گئی۔ کمیٹی کا احساس ہے کہ جب تک اوریجنل این او سی حاصل نہیں ہوگی اس وقت تک چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی دستخط کی اصلیت کا پتہ نہیں چلے گا۔ منان فاروقی نے کہا کہ ان کی دستخط کی زیراکس کو مکتوب پر چسپاں کردیا گیا۔ انہوں نے کمیٹی کو وہ مکتوب حوالہ کیئے جو دیگر معاملات میں ان کی دستخط سے جاری ہوئے ہیں۔ منان فاروقی کا کہنا ہے کہ جعلی این او سی میں تحریر ان کی نہیں ہے اور یہ تحریر کئی غلطیوں کے ساتھ ہے۔ پولیس تحقیقات میں نرسنگ رائو کا پتہ چلانے کی کوشش کررہی ہے۔ کمشنر پرنٹنگ اینڈ اسٹیشنری میں کسی سہیل نامی شخص نے درخواست داخل کی اور ڈی ڈی کی تکمیل کی۔ منان فاروقی نے بتایا کہ کسی بھی گزٹ نوٹیفیکیشن کے لیے وقف بورڈ کی جانب سے کمشنر پرنٹنگ اینڈ اسٹیشنری سے رجوع ہونے کی روایت نہیں ہے بلکہ جس کے نام پر احکامات جاری ہوتے ہیں وہی نوٹیفیکیشن کے لیے رجوع ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کا مشورہ دیا تاکہ اس طرح کے این او سی اسکام کو روکا جاسکے۔ کمیٹی کے ارکان نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے مختلف دستاویزات طلب کیے جن میں 25 مئی کو جاری کردہ تمام احکامات کی تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عابدس پولیس اسٹیشن میں دی گئی درخواست کی کاپی بھی کمیٹی کے حوالے کی گئی۔ کمیٹی کے ارکان نے فیصلہ کیا کہ وہ تمام دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے اندرون ایک ہفتہ دوبارہ اجلاس طلب کریں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو ہدایت دی کہ کمیٹی کی جانب سے طلب کردہ تمام دستاویزات پیش کریں تاکہ حقیقی خاطیوں کا پتہ چلانے میں مدد ملے۔

TOPPOPULARRECENT