Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ لیگل سیل کی لاپرواہی سے قیمتی جائیدادیں تنازعہ کا شکار

وقف بورڈ لیگل سیل کی لاپرواہی سے قیمتی جائیدادیں تنازعہ کا شکار

عدالتوں میں مقدمات کی یکسوئی کے لیے حلفنامہ داخل کرنے میں بھی متعلقہ ذمہ داران ناکام
حیدرآباد۔13۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کو جاریہ ماہ کے اواخر میں ایک سال مکمل ہوجائے گا لیکن عدالتوں میں مقدمات کی یکسوئی کے سلسلہ میں عہدیداروںکے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی ۔ بورڈ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں بارہا اعلانات کئے لیکن افسوس کہ بورڈ کا لیگل سیل کئی برسوں سے مقدمات کا عدالتوں میں حلفنامہ داخل کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ بورڈ کے لیگل سیل کی لاپرواہی کے سبب سینکڑوں قیمتی جائیدادیں عدالتوں میں تنازعہ کا شکار ہے جس کا فائدہ اٹھاکر قابضین اپنے ناجائز قبضہ کو مضبوط کرنے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سینکڑوں ایسے مقدمات ہیں جن میں لیگل سیل کی جانب سے کاؤنٹر داخل نہیں کیا گیا۔ کاؤنٹر داخل کرنے میں تاخیر کا راست فائدہ غیر مجاز قابضین کو ہوتا ہے ۔ کئی مقدمات میں کاؤنٹر داخل نہ کرنے پر عدالت نے قابضین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر مجاز قابضین کے بورڈ میں غیر معمولی اثرات ہیں اور وہ عہدیداروں سے ملی بھگت کے ذریعہ کاؤنٹرس کے ادخال کو منصوبہ بند طریقہ سے روک رہے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے جائزہ حاصل کرنے کے بعد سے ہر اجلاس میں لیگل سیل کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے لیگل سیل کے عہدیداروں اور اسٹانڈنگ کونسلس کے ساتھ کئی اجلاس منعقد کئے اور مقدمات کے کاؤنٹرس فوری داخل کرنے کی ہدایت دی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لیگل سیل کے عہدیداروں کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے زیادہ اپنے مفادات کی تکمیل کی فکر ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے لیگل سیل کو مستحکم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور ریٹائرڈ عہدیداروں کے ذریعہ یہ شعبہ کام کر رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائیکورٹ ، ٹریبونل اور تحت کی عدالتوں میں ایک ہزار سے زائد ایسے مقدمات ہیں جن میں وقف بورڈ نے طویل عرصہ سے کاؤنٹر داخل نہیں کیا۔ یہ تمام مقدمات اہم اوقافی جائیدادوں سے متعلق ہے۔ ان میں کئی ایسے مقدمات ہیں جن کی یکطرفہ یکسوئی کردی گئی لیکن وقف بورڈ کے حکام لاعلم ہیں۔کسی بھی مقدمہ میں فریق ثانی کی جانب سے کاؤنٹر داخل کرنے میں ناکامی کے بعد عدالت یکطرفہ فیصلہ سناتی ہے ۔ کچھ یہی حال اوقافی جائیدادوں کا ہے۔ لیگل سیل اور دیگر متعلقہ شعبوں کے عہدیداروں کے تساہل اور مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میں وقف بورڈ کو عدالتوں میں شکست کا سامنا ہے۔ اس کی تازہ مثال بوڈ اپل کی اوقافی اراضی کا ہے ۔ ٹریبول میں کامیابی کے باوجود وقف بورڈ نے ہائیکورٹ میں کیویٹ پیٹیشن داخل نہیں کی جس کے نتیجہ میں غیر مجاز قابض کے حق میں ہائی کورٹ نے حکم التواء جاری کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات کی لینڈ مافیا سے ملی بھگت ہے جس کے نتیجہ میں صدرنشین کے احکامات کو بھی نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ کاؤنٹرس کی تیاری میں تیزی پیدا کرنے کیلئے حال ہی میں بورڈ نے ایک ریٹائرڈ جج کی خدمات حاصل کی لیکن منصوبہ بند انداز میں ریٹائرڈ جج کو بعض اضلاع کے مقدمات کی ذمہ داری دی گئی ۔ حالانکہ حیدرآباد اور رنگا ریڈی میں سینکڑوں مقدمات کے کاؤنٹرس داخل کرنا باقی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریٹائرڈ جج کو حیدرآباد و رنگا ریڈی کی ذمہ داری دی جاتی لیکن وقف مافیا کے اشارہ پر ان کے پسندیدہ عہدیدار کو دونوں اضلاع حیدرآباد اور رنگا ریڈی کی ذمہ داری برقرار رکھی گئی ہے۔ اس طرح ریٹائرڈ جج کا تقرر بھی کاونٹرس کے ادخال کے سلسلہ میں بے فیض ثابت ہوگا۔ اسی طرح اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر ایک ریٹائرڈ سی ای او وقف بورڈ کا تقرر کیا گیا جنہیں لیگل سیکشن میں کاؤنٹرس کی تیاری میں تعاون کی ذمہ داری دی گئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ ریٹائرڈ عہدیدار کے خلاف سی بی سی آئی ڈی تحقیقات زیر التواء ہے۔ جس وقت وہ بورڈ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر تھے ، بعض معاملات میں بے قاعدگیوں کے سلسلہ میں حکومت نے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا آغاز کیا تھا ۔ یہ تحقیقات ابھی بھی نامکمل ہے۔ ایسے میں تحقیقات کا سامنا کرنے والے عہدیدار کو وقف بورڈ میں مقرر کرنا کئی شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی سفارش پر ریٹائرڈ عہدیدار کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے ان تمام معاملات کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات کے کاونٹرس کی تیاری کے سلسلہ میں اگر دیگر محکمہ جات کے لیگل اڈوائزرس کی خدمات کی ضرورت پڑے تو انہیں حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کاؤنٹرس کی تیاری اور ادخال کے سلسلہ میں جلد ہی اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT