Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض

وقف بورڈ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض

محکمہ اقلیتی بہبود کا کارپوریشن کو مکتوب ، بورڈ میں اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی سے بحران کی صورتحال

محکمہ اقلیتی بہبود کا کارپوریشن کو مکتوب ، بورڈ میں اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی سے بحران کی صورتحال
حیدرآباد۔/10اپریل، ( سیاست نیوز) حکومت نے وقف بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو قرض کی اجرائی کیلئے مکتوب روانہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ 24مارچ سے وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کے باعث بحران کی صورتحال ہے اور ملازمین مارچ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ 10دن گزرنے کے باوجود تنخواہوں سے محرومی کے سبب ملازمین نے حکومت سے بارہا نمائندگی کی۔ آخر کار محکمہ اقلیتی بہبود نے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض حاصل کرتے ہوئے تنخواہیں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پیر کے دن اس سلسلہ میں محکمہ کی جانب سے باقاعدہ احکامات جاری کئے جائیں گے اور اسی دن اقلیتی فینانس کارپوریشن سے قرض حاصل کرتے ہوئے ملازمین میں تنخواہیں جاری کردی جائیں گی۔ اگرچہ تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود کو دستخط کا اختیار حاصل ہے لیکن ہائی کورٹ میں اسپیشل آفیسر کے تقرر سے متعلق مقدمہ زیر دوران ہونے کے سبب کسی تنازعہ سے بچنے کیلئے اسپیشل سکریٹری دستخط سے متعلق اپنے اختیارات کے استعمال سے احتیاط کررہے ہیں۔ وقف بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ماہانہ 50لاکھ روپئے سے زائد کی ضرورت ہے جو کارپوریشن سے بطور قرض حاصل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اسپیشل آفیسر کو تنخواہوں کی اجرائی کیلئے دستخط کا اختیار حاصل ہے لیکن اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی نے بورڈ کیلئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کو اس قدر بھاری رقم کی اجرائی کا اختیار حاصل نہیں۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے 24مارچ کو اسپیشل آفیسر کے تقرر سے متعلق جی او کوکالعدم قرار دیا تھا۔ حکومت اس فیصلہ کے خلاف ڈیویژن بنچ سے رجوع ہونے کی تیاری کررہی ہے تاہم چیف منسٹر کے دفتر کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے وقف بورڈ میں کام کاج ٹھپ ہوچکا ہے اور کئی اہم اُمور سے متعلق فائیلیں یکسوئی کی منتظر ہیں۔ اس کے علاوہ کئی درگاہوں کے معاملات زیر التواء ہیں۔ وقف بورڈ میں پہلی مرتبہ اس طرح بحران کی کیفیت پیدا ہوئی ہے جس کی یکسوئی ہائی کورٹ کے ذریعہ ہی ممکن دکھائی دے رہی ہے۔ اسپیشل سکریٹری سید عمر جلیل نے آج وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ موجودہ بحران پر جائزہ اجلاس منعقد کیا۔

TOPPOPULARRECENT