Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ ملازمین کی من مانی ، متولیوں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ

وقف بورڈ ملازمین کی من مانی ، متولیوں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ

ٹپال سیکشن کا عملہ متولیوں کا ہمدرد ، کمپیوٹر سیکشن کی کئی بے قاعدگیاں
حیدرآباد۔ 21 ۔ مارچ ( سیاست نیوز) یوں تو وقف بورڈ میں ملازمین کی من مانی اور متولیوں سے ملی بھگت کوئی نئی بات نہیں لیکن بعض ایسے شعبہ جات ہیں جن کے بارے میں وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کو کافی بھروسہ تھا لیکن ان شعبہ جات میں بے قاعدگیوں کے انکشافات میں عہدیداروں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اور وقف اراضیات کے فروغ کے ذمہ دار متولیوں کے خلاف کارروائی میں وقف بورڈ کو دشواریوں کا سامنا ہے اور جب کبھی عہدیدار کسی متولی کے خلاف کارروائی کی تیاری کریں تو نچلی سطح پر موجود متولی کے ہمدرد متحرک ہوجاتے ہیں۔ طرح طرح سے وقف بورڈ کی کارروائیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ یوں تو وقف بور ڈ کے مختلف شعبہ جات کی الگ الگ کہانی ہے لیکن قارئین کو بھی یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شکایات اور درخواستیں وصول کرنے کیلئے ٹپال کا جو شعبہ قائم ہے، وہ خود بھی وقف بورڈ کی کارروائیوں میں رکاوٹ کا سبب بن رہا ہے ۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کے کمپیوٹر شعبہ میں بھی کئی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا۔ وقف بورڈ کی جانب سے کسی کمیٹی کے متولی کے خلاف کارروائی کیلئے نوٹس جاری کی جاتی ہے اور مقررہ مدت میں جواب طلب کیا جاتا ہے ۔ اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد داخل کئے گئے جوابات کو پرانی تاریخ کے ساتھ وصول کیا جارہا ہے جس سے اعلیٰ عہدیدار حیرت میں ہیں۔ ٹپال سیکشن اپنی پسند کی درخواستوں کو قبول کرتا ہے اور ناپسندیدہ درخواستوں کو اپنے طور پر مسترد کر رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سیکشن سے کئی افراد کی ملی بھگت ہے اور وہ پرانی تاریخوں کے ساتھ اپنی درخواستیں یا جوابات داخل کر رہے ہیں۔ اگر کسی سیکشن کے بارے میں کوئی شکایت پیش کی جائے تو اسے اعلیٰ عہدیداروں سے رجوع نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاوہ اس سیکشن نے نوٹس یا پھر کسی اور کارروائی کے بارے میں مکتوب روانہ کرنے میں بھی تاخیر کی شکایات ملی ہیں۔ عہدیدار احکامات کو جاری کر رہے ہیں لیکن یہ سیکشن کئی دن تک ان احکامات کو متعلقہ شخص تک روانہ نہیں کرتا۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور دیگر عہدیداروں نے ایک سے زائد مرتبہ اس سیکشن کی سرگرمیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ حال ہی میں بورڈ نے ایک متولی سے وضاحت طلب کی تھی اور مذکورہ متولی نے مدت گزرنے کے بعد جواب داخل کیا لیکن ٹپال سیکشن نے پرانی تاریخ میں اسے وصول کرلیا۔ دوسری طرف کمپیوٹر سیکشن کے ملازمین کی اندرونی اور بیرونی افراد سے ملی بھگت کے ذریعہ کئی اوقافی ریکارڈس کی منتقلی کی اطلاعات ملی ہیں۔ ایم جے اکبر نے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے بورڈ میں ڈسپلن پیدا کرنے کیلئے بائیو میٹرک حاضری کا آغاز کیا تھا لیکن پتہ چلا ہے کہ کمپیوٹر سیکشن کے ملازمین تاخیر سے پہنچ کر ریکارڈ میں مقررہ وقت درج کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض دیگر افراد کی آمد کا وقت بھی تبدیل کیا جارہا ہے۔ کمپیوٹر میں یہ سہولت موجود ہے کہ بائیو میٹرک حاضری کے وقت کو حاضری کی شیٹ میں مینول طور پر تبدیل کیا جائے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے ان معاملات پر نظر رکھنے کیلئے بعض عہدیداروں کو ذمہ داری دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT