وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی سے کام کاج ٹھپ

ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی خطرہ میں ، سی ای او اہم اختیارات سے محروم

ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی خطرہ میں ، سی ای او اہم اختیارات سے محروم
حیدرآباد ۔30 ۔ جون ۔ (سیاست نیوز) ریاستی وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کے باعث نہ صرف بورڈ کا کام ٹھپ ہوچکا ہے تو دوسری طرف ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی خطرہ میں پڑچکی ہے۔ اب جبکہ ماہِ رمضان المبارک کا آغاز ہوچکا ہے ، وقف بورڈ سے وابستہ ملازمین کل یکم جولائی کو تنخواہ کی وصولی کے بارے میں اندیشوں کا شکار ہیں۔ تنخواہوں کیلئے بینک کو چیک کی اجرائی کا اختیار اسپیشل آفیسر کو ہے اور فی الوقت یہ عہدہ خالی ہے۔ وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ اسپیشل آفیسر اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی مشترکہ دستخطوں کے بعد ہی بینک ملازمین کی تنخواہیں جاری کرتا ہے۔ حکومت نے تنخواہوں کی ادائیگی کے مسئلہ پر ابھی تک کوئی توجہ نہیں کی جس کے باعث ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو صرف ایک لاکھ روپئے تک کے امور میں دستخط کا اختیار ہے جبکہ اس سے زائد رقم کیلئے اسپیشل آفیسر کی دستخط ضروری ہے۔ 18 جون کو اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی میعاد ختم ہوگئی اور شیخ محمد اقبال آئی پی ایس 6 ماہ تک اس عہدہ پر خدمات انجام دینے کے بعد کمشنر اقلیتی بہبود کے عہدے تک محدود ہوگئے۔ حکومت نے 20 جون کو آئی ایف ایس عہدیدار جلال الدین اکبر کو اسپیشل آفیسر مقرر کیا لیکن جی او میں تکنیکی خرابیوں کے سبب وہ ابھی تک جائزہ حاصل نہیں کرسکے۔ وقف بورڈ کی تقسیم سے قبل تلنگانہ حکومت اپنے لئے علحدہ اسپیشل آفیسر کا تقرر نہیں کرسکتی۔ اس سلسلہ میں ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ جنرل سے رائے حاصل کی جارہی ہے ۔ اسی دوران جلال الدین اکبر نے بتایا کہ انہیں ابھی تک تقرر سے متعلق احکامات وصول نہیں ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی انہیں احکامات حاصل ہوں گے ، وہ عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے تیار ہیں۔ اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب گزشتہ دس دن سے وقف بورڈ کی سرگرمیاں مفلوج ہوچکی ہیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کوئی بھی اہم فیصلہ کا اختیار نہیں رکھتے۔ اسی دوران وقف بورڈ کے دو ڈپٹی سکریٹریز آج وظیفہ پر سبکدوش ہوگئے۔ احمد محی الدین ڈپٹی سکریٹری اسٹابلشمنٹ اور ایم اے غفار ڈپٹی سکریٹری اکاؤنٹس کی سبکدوشی کے بعد ان کی ذمہ داری علی الترتیب سلیم باشا ڈپٹی سکریٹری اور سلطان محی الدین ڈپٹی سکریٹری و لاء آفیسر کو تفویض کی گئی ہے۔ ایم غفار کے تحت درگاہ حضرات یوسفینؒ ، علاء الدین وقف جیسے اہم اداروں کے انتظامات اور وقف جائیدادوں کے کرایے کی وصولی جیسے امور تھے جو اب سلطان محی الدین کے سپرد کئے گئے ہیں۔ وقف بورڈ میں فی الوقت دو ڈپٹی سکریٹریز باقی رہ گئے ہیں۔ وقف بورڈ میں اصولاً 7 اسسٹنٹ سکریٹریز ہونا چاہئے لیکن صرف تین اسسٹنٹ سکریٹریز ہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وقف بورڈ میں مستقل ملازمین کی کافی کمی ہے اور صرف کنٹراکٹ ملازمین کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے متعلق اہم ادارہ کام کر رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت کسی ایک عہدیدار کو ایک دن کے لئے اسپیشل آفیسر کی ذمہ داری دے سکتی ہے تاکہ وہ تنخواہوں کی اجرائی کیلئے دستخط کرسکیں۔ وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ اسپیشل آفیسر نے چھ ماہ کے دوران جو کارروائیاں انجام دی تھیں، ان کی سرگرمیاں اب ماند پڑچکی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ جلد از جلد قانونی رکاوٹوں کی اصلاح کرتے ہوئے اسپیشل آفیسر کا تقرر کرے۔

TOPPOPULARRECENT