وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر کے تقرر کا مسئلہ ہائیکورٹ کے سنگل بنچ فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی

حیدرآباد۔/21اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کے تقرر کے خلاف ہائی کورٹ کے سنگل بنچ فیصلہ پر اپیل دائر کرے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قانونی ماہرین اور محکمہ اقلیتی بہبود سے مشاورت کے بعد اپیل کو ہری جھنڈی دکھادی ہے اور ایڈوکیٹ جنرل کے ذریعہ ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کی جائے گی۔ توقع ہے کہ اندرون دو یوم ا

حیدرآباد۔/21اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کے تقرر کے خلاف ہائی کورٹ کے سنگل بنچ فیصلہ پر اپیل دائر کرے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قانونی ماہرین اور محکمہ اقلیتی بہبود سے مشاورت کے بعد اپیل کو ہری جھنڈی دکھادی ہے اور ایڈوکیٹ جنرل کے ذریعہ ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کی جائے گی۔ توقع ہے کہ اندرون دو یوم ایڈوکیٹ جنرل ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ اسپیشل آفیسر کے تقرر کے مسئلہ پر ماہرین قانون اور ایڈوکیٹ جنرل کی تجاویز کا جائزہ لینے میں حکومت کو تاخیر ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل نے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کرنے کی مخالفت کی

اور حکومت کو تجویز پیش کی کہ متبادل انتظام کے طور پر وقف بورڈ میں سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اپنے دفتر کے عہدیداروں اور ماہرین قانون سے مشاورت کے بعد اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل گزشتہ دو ہفتوں سے تمام تفصیلات اور دستاویزات کے ساتھ ایڈوکیٹ جنرل سے ربط میں ہیں تاہم انہیں حکومت کی منظوری کا انتظار تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل کو محکمہ کی جانب سے تمام ضروری دستاویزات اور مواد حوالہ کردیا گیا

اور ڈیویژن بنچ پر اپیل کی تیاری کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اندرون دو یوم یہ مسئلہ ڈیویژن بنچ پر سماعت کیلئے آسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 24مارچ کو ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے اسپیشل آفیسر کے تقرر سے متعلق احکامات کو کلعدم کرتے ہوئے عبوری حکم جاری کیا تھا۔ اس فیصلہ کے بعد سے وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر موجود نہیں ہے جس کے باعث بورڈ کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے۔4اپریل سے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے ڈیویژن بنچ پر اپیل کی تیاری شروع کی تھی اور 7اپریل کو چیف سکریٹری نے ایڈوکیٹ جنرل کے ذریعہ اپیل کی تجویز سے اتفاق کیا۔ بعد میں یہ فائیل چیف منسٹر کے پاس زیر التواء رہی۔ اسی دوران ایڈوکیٹ جنرل نے حکومت کو اس مسئلہ پر سربمہر لفافہ میں سفارشات روانہ کی جس میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے عدالت میں اس تنازعہ سے بچنے سہ رکنی کمیٹی کی تشکیل کی سفارش کی تھی۔ چیف منسٹر نے ان سفارشات کا جائزہ لے کر اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مستقبل میں بورڈ میں اس طرح کی صورتحال سے بچا جاسکے۔ وقف ایکٹ کے مطابق بورڈ کو کسی نگرانکار عہدیدار کے بغیر طویل مدت تک نہیں رکھا جاسکتا۔ تقریباً تین ہفتوں سے وقف بورڈ میں سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں اور حکومت کو اُمید ہے کہ ڈیویژن بنچ پر فیصلہ اس کے حق میں آئے گا۔

TOPPOPULARRECENT