Thursday , December 13 2018

وقف بورڈ میں اہم فائیلوں کی یکسوئی اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر اقدامات متاثر

اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی سے کئی مسائل کا شکار ، ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا بھی مسئلہ

اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی سے کئی مسائل کا شکار ، ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا بھی مسئلہ
حیدرآباد 6 اپریل (سیاست نیوز)وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب اہم فائیلوں کی یکسوئی اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ماہ مارچ کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ پیدا ہوچکا ہے۔ وقف بورڈ کے ملازمین کو مارچ کی تنخواہ ابھی تک جاری نہیں کی گئی کیونکہ تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے منظوری کا اختیار اسپیشل آفیسر کو ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر تنخواہوں سے متعلق بھاری رقم کی منظوری کا اختیار نہیں رکھتے لہذا اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی سے وقف بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ہوگئی ۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے 24 مارچ کو عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے اسپیشل آفیسر کے تقرر سے متعلق جی او کو کالعدم کردیا تھا۔ اس فیصلہ کے بعد سے محمد جلال الدین اکبر جو اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے زائد ذمہ داری نبھا رہے تھے انہوں نے خود کو وقف بورڈ کے معاملات سے علحدہ کرلیا ۔ یوں تو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق کئی اہم فائیلیں زیر التواء ہوگئیں لیکن ماہ اپریل کے آغازکے ساتھ ہی وقف بورڈ میں بحران شدت اختیار کرچکا ہے کیونکہ ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود وقف بورڈ ملازمین کی تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں۔ ملازمین کی یونینوں نے اس سلسلہ میں اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل سے نمائندگی کی اور تنخواہوں کی ادائیگی کی درخواست کی۔ انہوں نے ملازمین کو تیقن دیا کہ تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں ضروری کارروائی کی جائے گی۔ ملازمین کو تنخواہوں کے سلسلہ میں مزید دو دن تک انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔ حکومت اسپیشل آفیسر کے تقرر کو کالعدم قرار دینے سے متعلق سنگل جج کے فیصلے کے خلاف ڈیویژن بنچ پر اپیل کی تیاری کررہی ہے ۔ حکومت کو امید ہے کہ ڈیویژن بنچ سے راحت حاصل ہوگی اور وقف بورڈ میں موجودہ بحران ختم ہوجائے گا۔ ماہرین قانون کے مطابق عدالت کا کوئی بھی فیصلہ کسی بھی ادارے میں غیر یقینی صورتحال کا موجب نہیں بننا چاہئے ۔ لہذا اس بنیاد پر ڈیویژن بنچ کی جانب سے راحت ملنے کی امید ہے ۔ ڈیویژن بنچ یا تو اسپیشل آفیسر کے از سر نو تقرر کی اجازت یا پھر اپنی نگرانی میں وقف بورڈ کے امور کی تکمیل کیلئے کمیٹی تشکیل دے سکتا ہے ۔ ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود تنخواہوں کی عدم اجرائی کے باعث ملازمین اور خاص طور پر درجہ چہارم اور ماتحت ملازمین معاشی پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ وقف بورڈ کی تاریخ میں اس طرح کی صورتحال پہلی مرتبہ پیدا ہوئی ہے جبکہ ہائی کورٹ نے اسپیشل آفیسر کے تقرر کو کالعدم کردیا لیکن کوئی متبادل انتظام نہیں کیا۔ تلنگانہ کے ایڈوکیٹ جنرل نے مقدمہ سے متعلق تمام تفصیلات حاصل کرلی ہیں اور امکان ہے کہ وہ بذات خود اس مقدمہ کی پیروی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT