Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں بدانتظامی کی جانچ کا فیصلہ

وقف بورڈ میں بدانتظامی کی جانچ کا فیصلہ

کمپیوٹر سیکشن کے بعد دیگر شعبوں کی کارکردگی پر بھی شبہات ، رپورٹ کی طلبی
حیدرآباد۔ 23 ۔ مارچ ( سیاست نیوز) چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے وقف بورڈ کے بعض شعبہ جات میں مبینہ بدانتظامی کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں کمپیوٹر سیکشن میں بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد انہوں نے دیگر شعبہ جات کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپیوٹر سیکشن میں طویل عرصہ سے جاری بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد مختلف گوشوں سے مزید شکایات موصول ہوئیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اس سیکشن میں کس طرح بائیو میٹرک حاضری کے سسٹم سے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے۔ تاخیر سے پہنچنے والے ملازمین کے وقت میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے بروقت پہنچنے والے ملازمین کی صف میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے اس سیکشن کو وجہ نمائی  نوٹس جاری کی ہے اور ان سے وضاحت طلب کی ہے ۔ اگرچہ اس سیکشن کی جانب سے بائیو میٹرک سسٹم میں چھیڑ چھاڑ کی تردید کی گئی لیکن کمپیوٹر کے ماہرین نے بتایا کہ طویل عرصہ سے اس طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ کمپیوٹر سنٹر کے ملازمین اور بعض دیگر شعبہ جات کے ملازمین میں ملی بھگت ہے اور تاخیر سے آنے کے باوجود ان کا نام سرفہرست رکھا جاتا ہے ۔ کمپیوٹر کے ماہرین نے اس سسٹم میں تبدیلی کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا جس سے وقف بورڈ کے کمپیوٹر سنٹر کے دعویٰ کی تردید ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے تمام شعبہ جات میں سختی سے ڈسپلن کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے اور ہر سیکشن انچارج اور ملازمین کی کارکردگی کے بارے میں وقتاً فوقتاً  رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جلال الدین اکبر نے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کئی اصلاحات کو نافذ کیا تھا لیکن ان کے تبادلہ کے بعد ان پر عمل آوری نہ ہوسکی۔ ایم جے اکبر نے ہر سیکشن میں روزانہ فائلوں کی یکسوئی کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی جس سے وقف بورڈ میں ورک کلچر کا آغاز ہوا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم جے اکبر کے بعد بورڈ کی کارکردگی دوبارہ پرانے انداز میں چل رہی ہے، جس سے نہ صرف عہدیداروں بلکہ عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے وقف بورڈ کے تمام شعبہ جات کیلئے مینول تیار کیا ہے جس میں ہر شعبہ کے عہدیدار اور ملازم کے فرائض اور ذمہ داریاں طئے کی گئی ہیں۔ بہت جلد یہ مینول جاری کردیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT