Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں بے قاعدگیاں،اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے رپورٹ طلب کی

وقف بورڈ میں بے قاعدگیاں،اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے رپورٹ طلب کی

ایک عہدیدار کے فرزند کا صرف ایک ماہ میںمستقل تقرر، چیف منسٹر سے دستاویزات کے ساتھ نمائندگی

ایک عہدیدار کے فرزند کا صرف ایک ماہ میںمستقل تقرر، چیف منسٹر سے دستاویزات کے ساتھ نمائندگی

حیدرآباد۔/9نومبر، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں اور بعض عہدیداروں کی من مانی کے بارے میں مسلسل شکایات وصول ہورہی ہیں۔ آخر کار حکومت آندھرا پردیش نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے گزشتہ ماہ اسپیشل آفیسر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بعض عہدیداروں کی جانب سے بے قاعدگیوں اور غیر قانونی طور پر عہدوں کی منظوری جیسے اقدامات پر رپورٹ طلب کی ہے۔ سابق میں بھی حکومت کی جانب سے عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کی گئی تھیں تاہم تحقیقاتی رپورٹ پیش ہونے کے باوجود حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں اور سکریٹریٹ میں محکمہ اقلیتی بہبود میں فائز عہدیداروں کے درمیان ملی بھگت کے باعث وقف بورڈ کی بے قاعدگیاں منظر عام پر نہیں آرہی ہیں حتیٰ کہ حکومت اور اعلیٰ عہدیداروں کو اس سے لاعلم رکھا جاتا ہے۔ وقف بورڈ میں طویل عرصہ سے فائز عہدیداروں کی من مانی اور ایک ہی عہدہ پر خدمات انجام دینے کے علاوہ اقرباء پروری کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ وقف بورڈ میں مستقل ملازمین کی جملہ تعداد 195ہے جبکہ 70 کنٹراکٹ ملازمین ہیں۔ 20تا25 ایسے ملازمین ہیں جو کسی نہ کسی عہدیدار کے رشتہ دار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 35غیر مستقل ملازمین میں 15کا تعلق صرف ایک ضلع سے ہے جبکہ 20 مختلف عہدیداروں کے فرزند یا پھر قریبی رشتہ دار ہیں۔ اس طرح وقف بورڈ پر بعض عہدیداروں اور ان کے افراد خاندان کی اجارہ داری کے سبب اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ اعلیٰ عہدیداروں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ یہ ملازمین اور عہدیدار ناجائز قابضین سے ملی بھگت کے ذریعہ اوقافی اُمور کو مسلسل ٹال رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اسپیشل آفیسر کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کی صریح خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ وقف بورڈ میں جاری مختلف بے قاعدگیوں اور اقرباء پروری کے سلسلہ میں شکایات کا جائزہ لینے پر کئی حیرت انگیز دستاویزات کا انکشاف ہوا۔ روز نامہ ’سیاست‘ کے پاس ایسی مختلف دستاویزات موجود ہیں جس سے بعض عہدیداروں کی من مانی اور اقرباء پروری صاف طور ثابت ہوتی ہے۔ وقف بورڈ نے اپنے طور پر ڈپٹی سکریٹری نام سے عہدے قائم کئے ہیں جبکہ حکومت کے ڈپٹی سکریٹری رینک سے ان عہدوں کی کوئی مطابقت نہیں۔ ڈپٹی سکریٹری کے نام پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ کی زائد ذمہ داری ایک عہدیدار کو حال ہی میں حوالے کی گئی جبکہ وقف قواعد کے مطابق اس عہدہ کیلئے ڈپٹی کلکٹر رینک کا عہدیدار ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے مستقل سی ای او کے تقرر میں تاخیر کے سبب اوقافی اُمور میں کئی بے قاعدگیوں اور فائیلوں کی یکسوئی میں تاخیر کی شکایات ملی ہیں۔ موجودہ انچارج چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو اکاؤنٹس آفیسر ، لاء آفیسر علاوہ ڈپٹی سکریٹری کی زائد ذمہ داری ہے ۔ دستاویزات کے ذریعہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ موجودہ انچارج سی ای او کے فرزند کو صرف ایک ماہ کے عرصہ میں نہ صرف عارضی طور پر ملازمت دی گئی بلکہ خدمات کو مستقل بھی کردیا گیا۔ اگرچہ فرزند کی قابلیت کے بارے میں سکم کی ایک غیر معروف یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہونے کا حوالہ دیا گیا لیکن تقرر میں بے قاعدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریباً 40تا50عارضی خدمات انجام دینے والے ملازمین ایسے ہیں جن میں بیشتر کی قابلیت مذکورہ امیدوار سے زیادہ ہے۔ ان میں کئی گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، لاء گریجویٹ، ایم سی اے، بی ٹیک، ایم بی اے، ایم فل ڈگری یافتہ امیدوار موجود ہیں لیکن ان پر انچارج سی ای او کے فرزند کو ترجیح دی گئی ان میں کئی عارضی ملازمین ایسے ہیں جو مذکورہ امیدوار سے پہلے سے وقف بورڈ میں کنٹراکٹ بنیاد پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔دستاویزات کے مطابق 18اگسٹ 2012 کو وقف بورڈ میں عارضی تقرر کے سلسلہ میں مذکورہ عہدیدار نے درخواست داخل کی اور یکم جولائی 2013کو تنخواہ میں 2000روپئے کا اضافہ کیا گیا۔ 20اگسٹ 2013کو خدمات مستقل کرنے کی درخواست دی گئی اور 4سپٹمبر 2013کو خدمات مستقل کرتے ہوئے احکامات جاری کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کی منظوری لئے بغیر ہی خدمات کو مستقل کیا گیا جبکہ گذشتہ پانچ تا چھ برسوں سے ان سے قابل ملازمین عارضی خدمات پر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ سی ای او تمام عارضی ملازمین کی جگہ نئے ملازمین کے تقررات کیلئے کوشاں ہیں۔ اس سلسلہ میں تمام دستاویزات کے ساتھ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے نمائندگی کی گئی ہے جو محکمہ اقلیتی بہبود کا قلمدان رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے وقف بورڈ سے متعلق تمام بے قاعدگیوں کا سخت نوٹ لیتے ہوئے عہدیداروں سے رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT