Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات پر بورڈ کی عدم توجہ

وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات پر بورڈ کی عدم توجہ

اجلاسوں میں کئی فیصلے ، قرار دادوں کی منظوری کی بھر مار ، عمل کے میدان میں پہلو تہی
حیدرآباد۔ 8 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ اپنے فیصلوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں کس حد تک سنجیدہ ہے؟ بورڈ کی جانب سے کیئے جانے والے فیصلوں پر کس حد تک عمل آوری کی گئی؟ یہ سوالات عوام کے ذہنوں میں اس وقت پیدا ہوئے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران بورڈ نے کئی اعلانات کیئے تھے لیکن آج تک اعلانات پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ بورڈ نے کئی معاملات میں تحقیقات کا اعلان کیا لیکن آج تک تحقیقات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ بورڈ کے ہر اجلاس میں بڑی تعداد میں قراردادیں منظور کی جاتی ہیں جن میں زیادہ تر کمیٹیوں اور متولیوں سے متعلق ہوتی ہیں۔ بورڈ کے ارکان اپنی دلچسپی کے امور بھی ایجنڈے میں شامل کرتے ہوئے ان کی منظوری حاصل کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے جہاں تک بے قاعدگیوں کے خلاف کارروائیوں کا سوال ہے، بورڈ کی جانب سے کیے گئے کئی اعلان آج بھی صرف کاغذی اعلان کی طرح فائیلوں میں دب چکے ہیں۔ بورڈ کی تشکیل کے بعد یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ایک انچ اوقافی اراضی کو تباہ ہونے نہیں دیا جائے گا۔ بورڈ نے گزشتہ رمضان المبارک میں بھینسہ میں عبداللہ خاں تکیہ کی قیمتی اوقافی اراضی کے تحفظ کی پہل کی تھی۔ بورڈ کی تشکیل سے قبل اس وقت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اس سلسلہ میں کوشش کی تو انہیں سیاسی مداخلت کا سامنا کڑنا پڑا۔ موجودہ بورڈ نے وقف بورڈ کی اراضی کو میونسپلٹی کی جانب سے حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا اور دو ارکان کے ساتھ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو بھینسہ دورے پر روانہ کیا گیا۔ رمضان المبارک کے آغاز سے ایک دن قبل تین رکنی کمیٹی نے بھینسہ کا دورہ کرتے ہوئے اراضی کا معائنہ کیا جہاں بلدیہ کی جانب سے 42 ملگیات پر مشتمل شاپنگ کامپلکس تعمیر کیا گیا ہے جس کا رقبہ 3111 مربع گز بتایا جاتا ہے جو وقف گزٹ میں درج ہے۔ بھینسہ کے دورے کے بعد تین رکنی کمیٹی نے جلد رپورٹ پیش کرنے کا اعلان کیا لیکن آج تک رپورٹ کی پیشکشی تو درکنار، اس مسئلہ پر تین رکنی کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیاسی دبائو اور بورڈ کے بعض ارکان کے سبب اس معاملہ کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ میں ملازمین کی اقربا پروری، غیر قانونی تقررات اور قابلیت کے بغیر تقررات کی جانچ کی ذمہ داری چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو دی گئی۔ انہوں نے اس سلسلہ میں رپورٹ تیار کرتے ہوئے حکومت کو پیش کی لیکن آج تک بورڈ نے اس رپورٹ پر کوئی کارروائی نہیں کی اور اس معاملہ میں بھی بعض ارکان کی مداخلت کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ بورڈ کے بیشتر ملازمین کی مذکورہ ارکان سے قربت ہے۔ وقف بورڈ نے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے فیصلوں کی جانچ کا اعلان کیا اور یہ تحقیقات موجودہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو تفویض کی گئی۔ لیکن آج تک بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ تحقیقات کا آغاز نہیں ہوپایا۔ وقف بورڈ نے 1969ء سے آج تک اسپیشل آفیسرس اور چیف ایگزیکٹیو آفیسرس کے فیصلوں کی جانچ کا اعلان کیا جن میں خاص طور این او سی کی اجرائی کے معاملات شامل کیے گئے لیکن یہ تحقیقات بھی محض اخبارات کی سرخیوں تک محدود ہوگئی۔ درگاہ حضرات یوسفینؒ کے غلوں سے بڑے کرنسی نوٹوں کے غائب ہوجانے کے معاملے کی جانچ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو دی گئی لیکن اس معاملہ میں چوں کہ بعض بااثر ریٹائرڈ ملازمین ملوث ہیں لہٰذا تحقیقات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ حال ہی میں میڑچل ملکاجگیری ضلع کی اوقافی اراضی کو خانگی قرار دیتے ہوئے جاری کردہ جعلی این او سی کی جانچ کے لیے تین ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیٹی کے تینوں ارکان پہلی مرتبہ بورڈ کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور انہیں بورڈ کے حالات سے مکمل واقفیت نہیں ہے جبکہ کئی مرتبہ بورڈ کے رکن رہنے والے تجربہ کار ارکان نے خود کو اس تحقیقات سے دور رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حقیقی خاطیوں کی پردہ پوشی کے لیے نئے ارکان کو تحقیقات کی ذمہ داری دے دی گئی۔ تین رکنی کمیٹی کا اجلاس پیر 11 ڈسمبر کو طلب کیا گیا ہے۔ بورڈ نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو مختلف معاملات کی تحقیقات کی ذمہ داری دی لیکن جعلی این او سی کے معاملے میں خود وہی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہوچکے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی معاملہ کی تحقیقات میں پیشرفت کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT