Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں کی سی بی آئی تحقیقات کی سفارش

وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں کی سی بی آئی تحقیقات کی سفارش

حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست (سیاست نیوز) اقلیتی کمیشن نے وقف بورڈ میں مختلف بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے بعد سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ اس سلسلہ میں صدرنشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خاں نے ڈائرکٹر سی بی آئی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کمیشن کی جانب سے تحقیقات کردہ 20 معاملات اور گزشتہ 28 برسوں کے وقف بورڈ کے امور کی تحقیقات کی خواہش کی ۔ انہوں نے سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی ، مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ، مرکزی وزیر اقلیتی امور نجمہ ہبت اللہ ، گورنر ای ایس ایل نرسمہن ، آندھرا و تلنگانہ کے چیف منسٹرس اور چیف جسٹس حیدرآباد ہائی کورٹ کو علحدہ علحدہ مکتوب روانہ کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی کمیشن کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ راست طور پر سی بی آئی سے کسی معاملہ میں تحقیقات کی سفارش کرسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں مختلف گوشوں کی جانب سے وقف بورڈ سے متعلق 20 معاملات کے خلاف کمیشن میں شکایت درج کی گئی تھی۔ کمیشن نے ان شکایات کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقات کو ضروری سمجھا ہے کیونکہ ان معاملات میں نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیاں ثابت ہوئی ہیں۔ جن اوقافی اداروں کے بارے میں کمیشن نے شکایتوں کا جائزہ لیا، ان میں محمدیہ کوآپریٹیو سوسائٹی ،

مسلم میٹرنیٹی ہاسپٹل ، معین منزل کے علاوہ لینکو ہلز ، ملکاجگیری ، جوبلی ہلز اور چیوڑلہ میں اوقافی اراضیات سے متعلق امور شامل ہیں۔ صدرنشین نے بتایا کہ وقف بورڈ کی جانب سے گزشتہ 28 برسوں کے دوران جاری کئے گئے این او سی ، اراضی کی تبدیلی، لیز ، متولیوں کا تقرر اور کمیٹیوں کی تشکیل جیسے فیصلوں کی جانچ کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے محمدیہ سوسائٹی مقدمہ میں 2008 ء میں وقف بورڈ کے امور کی تحقیقات کی ہدایت دی تھی لیکن آج تک حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیراعظم اور دیگر اہم شخصیتوں کو روانہ کردہ مکتوب میں کمیشن نے وقف بورڈ کی جانب سے کی گئی بے قاعدگیوں کے ثبوت بھی پیش کئے ہیں۔ 20 شکایات کے سلسلہ میں تحقیقات سے متعلق رپورٹ بھی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو روانہ کی گئی ہے۔ مکتوب میں سابق صدرنشین ، سابق سی ای او ، دیگر عہدیداروں اور

متولیوں کے خلاف پولیس تحقیقات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ سے متعلق اوقافی اراضی لینکو ہلز کے سلسلہ میں تشکیل دی گئی مینجنگ کمیٹی پر بھی کمیشن نے اعتراض کیا۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ اس قیمتی اراضی کے تحفظ کیلئے آئی اے ایس ، آئی پی ایس اور ریٹائرڈ ججس پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اوقافی جائیدادوں سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اور آندھراپردیش اسمبلی کی دو کمیٹیوں کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں اوقافی جائیدادوں کے سلسلہ میں کئی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ صدرنشین کمیشن عابد رسول خاں نے کہا ہے کہ دونوں ریاستوں آندھراپردیش اور تلنگانہ میں کئی ہزار کروڑ مالیتی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اقلیتی کمیشن کی دلچسپی ہے، یہی وجہ ہے کہ محتلف شکایات کے درست ثابت ہونے کے بعد ہی سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کا فیصلہ کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT