Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

تعلیمی اسناد اور احکام تقررات پیش کرنے 25 ستمبر تک ملازمین کو مہلت ، وقف بورڈ اجلاس کے بعد صدر نشین محمد سلیم کی میڈیا سے بات چیت
حیدرآباد۔14 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے غیر قانونی طور پر خدمات انجام دینے والے عہدیداروں اور ملازمین کو تحقیقات کے بعد برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ نے تقررات میں بے قاعدگیوں میں ملوث سابق اسپیشل آفیسرس اور چیف ا یگزیکٹیو آفیسرس کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔ وقف بورڈ کا اجلاس آج صدرنشین محمد سلیم کی صدارت میں حج ہائوز میں منعقد ہوا۔ چار گھنٹوں سے زائد تک جاری رہے اس اجلاس میں 70 سے زائد امور پر غور کیا گیا اور فیصلے کیے گئے۔ وقف بورڈ نے ملازمین کی کمی کو دور کرنے کے لیے حکومت سے کیڈر اسٹرینت منظور کرنے تاکہ قابل اور اہل نوجوانوں کا تقرر کیا جاسکے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنشین محمد سلیم نے کہا کہ ایوان کی اقلیتی بہبود کمیٹی نے وقف بورڈ سے متعلق جو معاملات منظر عام پر آئے ہیں، ان کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بورڈ کے دور میں ایک بھی تقرر نہیں کیا گیا اور بے قاعدگیوں اور غیر قانونی تقررات کے جو بھی معاملات ہیں وہ سابقہ بورڈ کے دور میں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25 ستمبر تک تمام عہدیداروں اور ملازمین کو اپنے تعلیمی اسنادات کے ساتھ تقرر کے احکامات پیش کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔ 25 ستمبر کے بعد ان کی جانچ کی جائے گی اور جو بھی غلط پائے جائیں انہیں ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں ایک بھی ملازم ایسا نہیں ہوگا جس کا تقرر غیر قانونی طریقہ سے یا پھر اقربا پروری کے ذریعہ کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں جن 7 ملازمین کے تقررات غیر قانونی پائے گئے انہیں خدمات سے علیحدہ کردیا گیا ہے۔ مزید 35 ایسے ملازمین ہیں جن کے پاس یا تو تقررات کے احکامات نہیں یا پھر تعلیمی صداقت نامہ نہیں ہے۔ ان ملازمین کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ تحقیقات کی تکمیل کے بعد حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ بورڈ میں 40 تا 50 قابل نوجوانوں کو تقرر کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق سی ای او اسد اللہ نے جن 7 ملازمین کا تقرر کیا تھا، ان کے پاس کوئی احکامات نہیں ہیں اس کے بغیر ہی خدمات کو باقاعدہ بنادیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی کئی بے قاعدگیاں منظر عام پر آئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں محمد سلیم نے کہا کہ ایوان کی اقلیتی بہبود کمیٹی کو جو رپورٹ پیش کی گئی ہے وہ عبوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران جب سے تقررات میں بے قاعدگیوں کا پتہ چلا بورڈ ایسے معاملات کی جانچ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں جن عہدیداروں کے دور میں بے قاعدگیاں ثابت ہوں گی ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مولانا اکبر نظام الدین صابری نے بتایا کہ بورڈ میں کیڈر اسٹرینت کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے حکومت سے نمائندگی کی جارہی ہے۔ تلنگانہ تشکیل کے بعد بھی حکومت سے نمائندگی کی گئی لیکن آج تک کیڈر اسٹرینت کو منظوری نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو اپنی ضرورت کے لیے ملازمین کے تقررات کا اختیار حاصل ہے۔ مولانا اکبر نظام الدین نے سوال کیا کہ جس وقت سید عمر جلیل سکریٹری اقلیتی بہبود کے ساتھ بورڈ کے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، اس وقت انہوں نے کیڈر اسٹرینت کو منظوری کیوں نہیں دی۔ محمد سلیم نے بتایا کہ اجلاس میں 34 کمیٹیوں، 12 تولیت کمیٹیوں اور 2 ڈیولپمنٹ کمیٹی کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حج ہائوز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کے بلڈر سے تنازعہ کی یکسوئی کرلی گئی ہے۔ بلڈر کو اجلاس میں طلب کیا گیا تھا۔ بلڈر نے جرمانہ کے بغیر حقیقی رقم حاصل کرنے سے اتفاق کرلیا اور وہ عدالت میں مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرلے گا۔ بلڈر کو بورڈ کی جانب سے تقریباً ایک کروڑ روپئے ادا کیے جائیں گے۔ ارکان نے زیر تعمیر کامپلکس کو اوپن ٹینڈر کے ذریعہ لیز پر دیئے جانے کو منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ غیر آباد مساجد کو آباد کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ ملازمین میں ڈسپلین پیدا کرنے کے لیے سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ایسے ملازمین جو وقت کی پابندی نہیں کرتے اور فرائض کی انجام دہی میں غفلت سے کام لیتے ہیں انہیں معطل کیا جاسکتا ہے۔ انیس الغربا کے دو کروڑ روپئے مالیتی فکسڈ ڈپازٹ سرٹیفکیٹ کے غائب ہونے کے مسئلہ پر صدرنشین نے بتایا کہ اس سلسلہ میں بینک کو مکتوب لکھا گیا ہے۔ بینک میں رقم محفوظ ہے اور بورڈ کی تقسیم کے وقت یہ کاغذات کہیں لاپتہ ہوگئے۔ کاغذات کی عدم موجودگی سے رقم کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ انیس الغربا کی رقومات 27 مختلف بینکوں میں ہے اور اسے صرف ایک بینک اکائونٹ کے تحت لانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ بورڈ میں باقاعدہ آڈٹ کا کوئی نظم نہیں ہے۔ صدرنشین نے ان شکایات کا سختی سے نوٹ لیا کہ آڈیٹرس کو گزشتہ 15 برسوں سے معمول دیا جارہا ہے اور وہی آڈیٹرس وقف بورڈ کے لیے کام کررہے ہیں۔ صدرنشین محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو ہدایت دی کہ آڈیٹرس کو معمول دیئے جانے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ اجلاس میں ارکان ملک معتصم خان، مولانا اکبر نظام الدین صابری، ڈاکٹر نثار حسین حیدر آغا، رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد اویسی، مرزا انور بیگ، ایم اے وحید ایڈوکیٹ، ذاکر حسین جاوید، رکن اسمبلی معظم خان، صوفیہ بیگم اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT