Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں تین ماہ کی عوامی درخواستوں کا کوئی پرسان حال نہیں

وقف بورڈ میں تین ماہ کی عوامی درخواستوں کا کوئی پرسان حال نہیں

صدر نشین کی ہدایات بھی نظر انداز ۔ الحاج محمد سلیم کا مختلف شعبہ جات کے عہدیداروں پر برہمی کا اظہار

حیدرآباد ۔ 24۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے صدرنشین محمد سلیم کی لاکھ کوششوں کے باوجود صورتحال میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ وقف بورڈ جہاں ریاست بھر سے تعلق رکھنے والے افراد مساجد ، قبرستانوں ، عیدگاہوں اور دیگر اداروں کے مسائل کے سلسلہ میں رجوع ہوتے ہیں اور انہیں امید ہوتی ہے کہ ان کی درخواست پر فوری کارروائی کی جائے گا ۔ طویل مسافت طئے کرتے ہوئے مسئلہ کی یکسوئی کی امید کے ساتھ پہنچنے والے افراد کو یہ جان کر یقیناً مایوسی ہوگی کہ گزشتہ تین ماہ سے وقف بورڈ کے اسٹاف نے عوامی درخواستوںکو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ہزاروں کی تعداد میں نمائندگیاں اور شکایات وقف بورڈ کے ٹپال سیکشن میں کسی پرسان حال کے بغیر پڑی ہوئی ہیں اور متعلقہ سیکشن آفیسرس انہیں قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے حال ہی میں عہدیداروں کو درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی اور ٹپال قبول کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن اس ہدایت کا عہدیداروں پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ لہذا صدرنشین وقف بورڈ کو آج دوبارہ اجلاس طلب کرتے ہوئے عہدیداروں کی سرزنش کرنی پڑی۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے مختلف شعبہ جات کے سیکشن آفیسرس ٹپال قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹپال دیکھنے کی ذمہ داری سیکشن کلرک کی ہوتی ہے اور وہ یہ کام انجام نہیں دے سکتے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے قواعد اور روایات کے مطابق عوامی درخواستوں کی جانچ سپرنٹنڈنٹ کی ذمہ داری ہے اور وہ ٹپال قبول کرتے ہوئے کلرک کے حوالے کرتے ہیں۔ بورڈ کے ٹپال سیکشن کی جانب سے جب کبھی عوامی نمائندگیاں اور شکایات متعلقہ شعبہ جات کو روانہ کی جارہی ہیں، عہدیدار انہیں قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال بورڈ کیلئے تکلیف دہ بن چکی ہے کیونکہ عوامی درخواستوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ وقف بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹس کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور انہیں کلرک پر انحصار کئے بغیر ٹپال کو قبول کرنا ہوگا۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج مختلف شعبہ جات کے عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کی یکسوئی میں عہدیداروں کے رویہ سے رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹپال کی درخواستوں اور شکایات کی یکسوئی نہیں کی گئی تو وہ سیکشن سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو ہدایت دی کہ اس سلسلہ میں آئندہ ہفتہ تک تمام درخواستوں کی یکسوئی کو یقینی بنائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ اراضی سروے کے سلسلہ میں تمام شعبہ جات کے زیادہ تر کلرکس کو اضلاع روانہ کرتے ہوئے سروے میں شامل عہدیداروں سے تعاون کی ذمہ داری دی گئی ہے تاکہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہوسکے۔ ایسے میں سپرنٹنڈنٹس کا رویہ نہ صرف بورڈ کی نیک نامی متاثر کر رہا ہے بلکہ عوامی مسائل اور شکایات کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT