Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / وقف بورڈ میں ریکارڈ سکشن مہر بند ‘ چیف منسٹر کی ہدایت پر کارروائی

وقف بورڈ میں ریکارڈ سکشن مہر بند ‘ چیف منسٹر کی ہدایت پر کارروائی

 

٭ صدر نشین و چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے چیمبروں سے بھی فائیلیں ہٹالی گئیں۔ پولیس کاسخت پہرہ
٭ اچانک کارروائی سے بورڈ کے ارکان اور عہدیداروں میں کھلبلی ‘ فائیلوں کا جائزہ لینے ٹیم تشکیل دی جائیگی
٭ جائزہ اجلاس میں عہدیداروں کے غیر اطمینان بخش جوابات کے بعد چندر شیکھر راؤ برہم

حیدرآباد 7 نومبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی چیف منسٹر نے شخصی طور پر کارروائی کرتے ہوئے بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہربند کرنے کی ہدایت دی۔ بورڈ میں جائیدادوں اور اراضیات کے ریکارڈ میں دھاندلیوں کا پتہ چلانے کیلئے چیف منسٹر کی ہدایت پر کلکٹر حیدرآباد یوگیتا رانا نے پولیس ٹیم کے ساتھ پہونچ کر رات میں ریکارڈ سیکشن کو مہربند کردیا۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے 4 گھنٹوں تک اوقافی اُمور کا جائزہ لینے کے بعد یہ قدم اُٹھا کیوں کہ اجلاس میں شریک سکریٹری اقلیتی بہبود اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ سمیت دیگر عہدیدار چیف منسٹر کے سوالات کا اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر رہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے عہدیداروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وقف بورڈ میں دھاندلیاں اور بے قاعدگیاں عروج پر ہیں۔ ریکارڈ سیکشن کو مہربند کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی جائے گی جو ہر ایک فائیل کا جائزہ لیتے ہوئے اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کی حقیقی صورتحال پر حکومت کو رپورٹ پیش کریگی۔

کے سی آر کے اس غیر متوقع اقدام سے بورڈ کے ارکان اور عہدیداروں میں کھلبلی مچ گئی۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی موجودگی میں ریکارڈ روم اور متعلقہ سیکشنوں کو مہربند کردیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی جائزہ اجلاس میں شریک تھے۔ انھوں نے جاریہ اراضی سروے میں اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کے منصوبہ سے واقف کرایا تاہم بورڈ کی جانب سے جو ریکارڈ داخل کیا گیا ہے وہ ناکافی ہے۔ چیف منسٹر نے اوقافی جائیدادوں کے منڈل کی سطح پر ریکارڈ، ہر جائیداد کے لئے ضروری لنک ڈاکومنٹ، ہر ضلع سے وقف بورڈ کی آمدنی، اسٹاف کی تعداد، ان کی قابلیت اور کارکردگی کے بارے میں سوالات کئے لیکن کوئی بھی جواب اطمینان بخش نہیں تھا۔ چیف منسٹر نااہل اسٹاف کی موجودگی پر برہم ہوگئے اور کہاکہ لاکھوں کروڑوں روپئے صرف تنخواہوں پر خرچ ہورہے ہیں لیکن کام کچھ نہیں۔ ہر ضلع سے وقف بورڈ کو ہونے والی آمدنی کی تفصیلات بتانے سے بھی عہدیدار قاصر رہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ صرف کاغذ پر 33 ہزار جائیدادوں اور 77 ہزار ایکر اراضی لکھنے سے کیا فائدہ جب تک درست ریکارڈ نہ ہو۔
] نامکمل ریکارڈ کو ریونیو حکام قبول نہیں کریں گے۔ چیف منسٹر نے اس بات کا اشارہ دیا کہ تحقیقات کے بعد اوقافی اراضیات کے غیر قانونی رجسٹریشن منسوخ کئے جائیں گے۔ انھوں نے اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے لئے بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین کو ذمہ دار قرار دیا اور کہاکہ یہ ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ حکومت خاطیوں کو نہیں بخشے گی۔ اعلیٰ عہدیداروں کی ٹیم اندرون ایک ہفتہ فائیلوں کی جانچ مکمل کرلے گی۔ سابق حکومتوں کی جانب سے الاٹ کردہ اوقافی اراضیات کا بھی پتہ چلایا جائے گا۔وقف بورڈ میں رات دیر گئے تک ریکارڈز کو مہربند کرنے کا عمل جاری رہا ۔ آر ڈی او چندرکلا کی نگرانی میں متعدد ایم آر اوز کو ریکارڈز مہربند کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جنہوں نے بورڈ کے تمام سیکشنوں سے فائیلوں کو مجتمع کیا اور انہیں یکجا کرتے ہوئے مہربند کردیا گیا ۔ حتی کہ خود صدر نشین اور چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے چیمبروں سے بھی فائیلوں کو اٹھاکر منتقل کردیا گیا ۔ اس کارروائی کے دوران کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ بورڈ کے کسی سیکشن میں کوئی فائیل عملہ کیلئے دستیاب نہیں رہے گی اور تمام فائیلوں کو یکجا کرتے ہوئے ریکارڈ سیکشن منتقل کرکے اس سیکشن کو مہربند کردیا گیا ۔ حج ہاوز کی پہلی منزل پر ( جہاں وقف بورڈ کا دفتر ہے ) اور دوسری منزل کے ریکارڈ سیکشن پر پولیس کو متعین کردیا گیا ہے ۔

جناب محمود علی اور محمد سلیم نے خیرمقدم کیا
ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف منسٹر کی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ محمود علی نے کہاکہ چیف منسٹر جمعہ کو درگاہ جہانگیر پیراںؒ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ منت کی تکمیل سے قبل یہ کارروائی توفیق الٰہی کا نتیجہ ہے۔ چیف منسٹر نے اوقافی جائیدادوں کے تحظ کے لئے تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہاکہ وہ گزشتہ 7 ماہ سے وقف بورڈ میں سدھار کیلئے کام کررہے تھے لیکن اسٹاف کا تعاون حاصل نہیں ہوا۔ جانچ کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT