Wednesday , August 22 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں سرقہ سے متعلق پولیس رپورٹ میں تاخیر

وقف بورڈ میں سرقہ سے متعلق پولیس رپورٹ میں تاخیر

متنازعہ فائیل غائب ہوجانے کی چہ میگوئیاں، سکریٹری کے استفسار پر غیر واضح جواب
حیدرآباد۔/3 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں سرقہ کی کوشش کے بارے میں پولیس نے ابھی تک تحقیقاتی رپورٹ پیش نہیں کی ہے جبکہ عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ فنگر پرنٹ رپورٹ کے مطابق ایک ملازم کے فنگر پرنٹ میل کھارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ عہدیداروں کی توجہ دہانی کے باوجود پولیس عابڈز نے ابھی تک رپورٹ پیش نہیں کی جبکہ عابڈز پولیس جعلی این او سی کے ایک علحدہ معاملہ کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں تحقیقات کے سلسلہ میں بعض گوشوں سے پولیس پر دباؤ ہے جس کے باعث وہ رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر سے کام لے رہی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اس سلسلہ میں کمشنر پولیس حیدرآباد سے نمائندگی کا فیصلہ کیا تاکہ جلد از جلد خاطیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کارروائی کی جاسکے۔ اسی دوران وقف بورڈ کے اکاؤنٹس سیکشن میں سرقہ کی کوشش اور قفل شکنی کے بعد متنازعہ فائیلوں کے غائب ہوجانے سے متعلق چہ میگوئیاں بورڈ میں جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ائمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ سے متعلق بعض اداروں نے جو دھاندلیاں کیں اس سے متعلق فائیل اکاؤنٹس سیکشن میں موجود تھی اور سرقہ کی کوشش کے بعد سے یہ فائیل دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کسی بھی فائیل کے سرقہ ہونے سے انکار کررہے ہیں لیکن انہوں نے اب تک متنازعہ فائیل کو نہ صرف میڈیا بلکہ صدرنشین وقف بورڈ کے پاس پیش نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ائمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ کی اسکیم کے آغاز کے وقت بعض مذہبی اداروں اور شخصیتوں نے قیامگاہوں کو مساجد ظاہر کرتے ہوئے بھاری رقم حاصل کرلی۔ اس سلسلہ میں شکایات ملنے پر تحقیقاتی افسر کو مقررکیا گیا جس نے اپنی رپورٹ میں کئی ایسے افراد اور اداروں کی نشاندہی کی جنہوں نے غلط طریقہ سے رقومات حاصل کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تحقیقاتی افسر کی رپورٹ اور حاصل کردہ رقم کی تفصیلات جاننے کیلئے یہ فائیل متعلقہ اکاؤنٹس سیکشن میں روانہ کی گئی تھی۔ بورڈ کے ملازمین میں اس بات کی چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ اس فائیل کا سرقہ ہوچکا ہے اور اسی فائیل کیلئے منظم انداز میں قفل شکنی کی گئی۔ سارقوں نے سی سی ٹی کیمروں کے وائر کٹ کرتے ہوئے یہ کارروائی کی تاکہ کیمرے میں زد میں نہ آئیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں میں پولیس اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کو کچھ بھی ثبوت دستیاب نہیں ہوا۔ اب سارا انحصار پولیس کی رپورٹ پر رہے گا جس نے فنگر پرنٹس رپورٹ میں سارق کی نشاندہی کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر سرقہ کی کوشش میں متنازعہ فائیل کا سرقہ نہیں ہوا اور دیگر سیکشنوں میں یہ فائیل موجود ہے تو پھر چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو اس سلسلہ میں ثبوت کے ساتھ بورڈ کے اجلاس میں وضاحت کرنی چاہیئے۔ گزشتہ دنوں جب سکریٹری اقلیتی بہبود دانا کشور نے وقف بورڈ کا دورہ کیا تھا تو میڈیا کے نمائندوں کے استفسار پر انہوں نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو فائیل کی موجودگی کا پتہ چلانے کی ہدایت دی تھی لیکن ابھی تک بورڈ کے عہدیداروں کا موقف غیر واضح دکھائی دے رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT