Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں غیرمجاز افراد اور بروکرس کی آمدورفت پر پابندی

وقف بورڈ میں غیرمجاز افراد اور بروکرس کی آمدورفت پر پابندی

فائیلوں کی یکسوئی کی کوشش پر پولیس کے حوالے کرنے کی تجویز، محمد سلیم چیرمین کا اقدام
حیدرآباد۔/23ستمبر، ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ بورڈ میں غیر مجاز افراد اور خاص طور پر وقف مافیا سے جڑے بروکرس اور درمیانی افراد کی سرگرمیوں پر روک لگانے کیلئے سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں اور ملازمین کو ہراساں کرتے ہوئے اپنی فائیلوں کی یکسوئی کی کوشش کرنے والے افراد کو پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ گزشتہ چند دنوں سے وقف بورڈ میں پیش آئے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ اگر اداروں اور انفرادی طور پر حقیقی مسائل پر نمائندگی کی جاتی ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں روزانہ مختلف سیاسی، سماجی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے اوقافی اُمور پر نمائندگی کی جاتی ہے اور وہ حتی المقدور ان کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے عہدیداروں کو ہدایات دیتے ہیں۔ سوشیل میڈیا کے ایک گوشہ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ صدرنشین وقف بورڈ کا رویہ وزیٹرس کے ساتھ ٹھیک نہیں۔ اس سلسلہ میں ایک ویڈیو بھی وائرل کیا گیا جس میں ایک شخص کو صدرنشین وقف بورڈ سے بحث کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ سوشیل میڈیا کا رویہ بھی جانبدارانہ ہے۔ انہوں نے مذکورہ شخص کو کیوں سخت سُست کہا اس کی وجوہات جانے بغیر ہی ان کے خلاف مہم چلائی گئی۔ محمد سلیم نے بتایا کہ جس شخص کا ویڈیو وائرل ہوا ہے اس کے خلاف 2016 میں پولیس عابڈز میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اسوقت کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے پر ایف آئی آر درج کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص ہمیشہ کسی نہ کسی اوقافی جائیداد کی پیروی کے سلسلہ میں وقف بورڈ میں دکھائی دیتا ہے اور ملازمین و عہدیداروں کو ڈرا دھمکاکر مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں اور ہراسانی کو موجودہ بورڈ برداشت نہیں کرے گا اور وہ بروکرس کی سرگرمیوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ خود بھی اس واقعہ پر کیس درج کرنا چاہتے تھے تاہم انہوں نے پہلا واقعہ تصور کرتے ہوئے اپنا ذہن تبدیل کرلیا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ موجودہ بورڈمیں تمام اراکین اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے جذبہ کے ساتھ کام کررہے ہیں اور وہ کسی کے دباؤ میں آنے والے نہیں۔ اوقافی جائیدادیں اللہ کی امانت ہیں اور جب تک وہ صدرنشین کے عہدہ پر فائز رہیں گے کسی بھی جائیداد کے سلسلہ میں غلط فیصلہ نہیں کرسکتے اور کوئی بھی شخص انہیں دباؤ اور ہراسانی کے ذریعہ غلط فیصلہ پر مجبور نہیں کرسکتا۔ انہوں نے اداروں اور عوام سے اپیل کی کہ اگر ان سے متعلق کوئی کام ہوں تو ضرور وقف بورڈ پہنچیں لیکن کسی پیروی کیلئے ہرگز نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے ملازمین کو ہراساں کرنے اور سیکشنوں میں جاکر کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ وہ کمشنر پولیس حیدرآباد سے بات چیت کرتے ہوئے وقف بورڈ میں سیکورٹی سسٹم کو مستحکم کرنے کے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات پر قبضوں کو وقف مافیا اور بروکرس کی سرپرستی حاصل ہے جسے وقف بورڈ برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین کو بھی پابند کیا کہ وہ کسی بھی بروکر اور پیروکارکے دباؤ کو قبول نہ کریں اور اعلیٰ عہدیداروں کو اس کی اطلاع دیں۔

TOPPOPULARRECENT