Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں قفل شکنی، تین مشتبہ ملازمین حراست میں

وقف بورڈ میں قفل شکنی، تین مشتبہ ملازمین حراست میں

اندرونی افراد کی کارستانی کا شبہ، 10 ملازمین کے فنگرپرنٹس کی جانچ
سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم کارکردگی
حیدرآباد۔ 5 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے اکائونٹ سیکشن میں قفل شکنی کے ذریعہ سرقہ کی کوشش کرنے والے خاطیوں کا پتہ چلانے کے لیے پولیس نے تحقیقات میں شدت پیدا کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے تین ملازمین کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ ان تینوں کا تعلق مینٹننس اور سکیوریٹی شعبہ جات سے ہے۔ پولیس معاملہ کی جانچ کے سلسلہ میں دیگر مشتبہ افراد پر نظر رکھے ہوئے ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد خاطیوں کا پتہ چلالیا جائے گا۔ پولیس نے اکائونٹ سیکشن سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں اور ملازمین کے علاوہ جملہ 10 ملازمین کے فنگر پرنٹس حاصل کرلیے ہیں جن کا اکائونٹ سیکشن میں پائے گئے فنگر پرنٹس سے تقابل کیا جائے گا۔ پولیس تحقیقات کے نتیجہ میں وقف بورڈ کے ملازمین میں خوف کا ماحول دیکھا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کو بورڈ کے ملازمین پر شبہات ہیں اور انہیں یقین ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیتے ہوئے خاطیوں کی نشاندہی کرلی جائے گی۔ وقف بورڈ میں سکیوریٹی کے ناقص انتظامات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ساری عمارت کے لیے چند سکیوریٹی گارڈ ہیں اور عمارت کے بعض حصوں میں اضلاع سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو رات میں قیام کی اجازت دی گئی ہے۔ حج ہائوز کی عمارت جہاں مختلف اقلیتی اداروں کے دفاتر موجود ہیں وہاں رات کے اوقات میں بھی غیر متعلقہ افراد کی سرگرمیاں روزانہ کا معمول ہے۔ وقف بورڈ کے حکام کی توجہ دہانی کے باوجود سکیوریٹی اور مینٹننس کا عملہ غیر متعلقہ افراد کو عمارت میں داخل ہونے سے روکنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ دفتر کے اوقات کے بعد لوگ عمارت کے مختلف منزلوں میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ رات دیر گئے عمارت میں قیام کرنے والے ملازمین سے ملاقات کے لیے بھی لوگ آرہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر قانونی طور پر کئی افراد حج ہائوز میں اپنا مستقل ٹھکانہ بنا چکے ہیں۔ ہفتہ کی رات دیر گئے قفل شکنی کے ذریعہ سرقہ کی جو کوشش کی گئی اس سے وقف بورڈ میں سنسنی دوڑادی ہے۔ اگر سارق کامیاب ہوجاتے تو اکائونٹ سیکشن سے کئی اہم فائیلیں اور نقد رقم غائب ہوسکتی تھیں۔ وقف بورڈ کے حکام اگرچہ سرقہ میں ناکامی کا دعوی کررہے ہیں لیکن جب تک مکمل فائیلوں کی جانچ نہیں کی جاسکتی اس طرح کا دعوی بے فیض ہوگا۔ سارقین نے جب سی سی ٹی وی کیمروں کے وائر کٹ کرتے ہوئے قفل شکنی کی تو پھر کچھ تو سرقہ کیا ہوگا۔ محفوظ کارروائی کے باوجود خالی ہاتھ واپس ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ پولیس خود بھی اسی زاویہ سے تحقیقاتی کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ میں 30 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے ہیں ان میں تقریباً 10 کیمرے طویل عرصہ سے غیر کارکرد ہیں لیکن اس جانب کسی نے توجہ نہیں دی۔ سرقہ کی کوشش کے بعد وقف بورڈ سی سی ٹی وی کیمروں کے مینٹننس کا کام کسی خانگی ادارے کو حوالے کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ پولیس نے 10 مشتبہ ملازمین کو طلب کرتے ہوئے پوچھ تاچھ کی ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل ہونے کے بعد رات دیر گئے عمارت کے دیگر حصوں اور خاص طور پر باب الداخلہ پر نظر آنے والے ملازمین کو دوبارہ تحقیقات کے لیے طلب کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض ایسے ملازمین جو تبادلوں یا پھر زائد کام کے بوجھ کے سبب عہدیداروں سے ناراض ہیں۔ وہ بھی اس طرح کی کارروائی میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ سکیوریٹی مسئلہ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ بورڈ کے تمام سیکشنوں میں فل پروف سکیوریٹی انتظامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT