Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں وقف جائیدادوں پر ہورڈنگس کا بڑا اسکام

وقف بورڈ میں وقف جائیدادوں پر ہورڈنگس کا بڑا اسکام

کروڑہا روپیوں کے غبن کا امکان ، تحقیقات کے لیے سی ای او کو صدر نشین کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اگست (سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں پر تجارتی ہورڈنگس کی منظوری اس کی آمدنی سے متعلق وقف بورڈ میں ایک بڑا اسکام منظر عام پر آیا ہے۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپئے پر مشتمل اس اسکام کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی کو ہدایت دی کہ تحقیقات کے سلسلہ میں پیشرفت کریں۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں یا پھر پولیس سے اس معاملہ کی جانچ پر غور کیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں مختلف اوقافی جائیدادوں پر 85 سے زائد ہورڈنگس ہیں جبکہ وقف بورڈ کے ریکارڈ میں یہ تعداد 20 تا 25 دکھائی جارہی ہے۔ اوقافی جائیداد کے متولی ، مینجنگ کمیٹی اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کی ملی بھگت کے ذریعہ یہ ہورڈنگس نصب کئے گئے جن سے لاکھوں روپئے کی آمدنی حاصل ہورہی ہے اور یہ آمدنی متولی یا مینجنگ کمیٹی اور وقف بورڈ کے متعلقہ عہدیدار آپس میں تقسیم کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور وقف بورڈ کو سالانہ کئی کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے ۔ ہورڈنگس کی تنصیب کیلئے وقف بورڈ سے اجازت لازمی ہے لیکن بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ سیکشن کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے بغیر اجازت ہورڈنگس نصب کئے گئے اور انہیں تجارتی اداروں کے حوالے کیا گیا۔ شہر کے علاوہ اضلاع میں مختلف اوقافی جائیدادوں پر تقریباً 300 سے زائد ہورڈنگس تجارتی اداروں کے حوالے کئے گئے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وقف بورڈ میں ہورڈنگس سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ متعلقہ پراجکٹ سیکشن کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے یہ اسکام جاری تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں سی بی سی آئی ڈی سے اس معاملہ کی جانچ کا آغاز کیا گیا لیکن اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے درمیان میں ہی تحقیقات کو روک دیا گیا ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ حج ہاؤز کے احاطہ میں تین ہورڈنگس ہیں لیکن تین ماہ قبل تک بھی وقف بورڈ اس کی آمدنی سے محروم تھا ۔ کئی برسوں سے موجود ان ہورڈنگس کا کرایہ کون حاصل کر رہا تھا ، اس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے ہورڈنگ حاصل کرنے والا تجارتی ادارہ ماہانہ 46 ہزار روپئے کا چیک وقف بورڈ میں جمع کر رہا ہے۔ اس سے قبل آخر کس کو کرایہ کی رقم حوالے کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ سیکشن اور علاقہ کے انسپکٹر آڈیٹر سے ملی بھگت کے ذریعہ ہورڈنگس کی آمدنی ہڑپ کرنے کا اسکام جاری ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اس معاملہ کی تحقیقات اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جا ئے گا ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وقف بورڈ کے عہدیدار خود بورڈ کی آمدنی میں دھاندلیوں کے ذمہ دار ہیں۔ شہر اور اضلاع میں اہم تجارتی مقامات پر موجود اوقافی جائیدادوں پر غیر قانونی ہورڈنگس کی تنصیب عمل میں آئی ہے۔ صدرنشین نے بتایا کہ ریاست بھر میں ہورڈنگس کی تعداد کا پتہ چلایا جائے گا اور تجارتی اداروں سے حاصل ہونے والی آمدنی وقف بورڈ میں جمع کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ تجارتی ادارے ہورڈنگس کا کرایہ لاکھوں روپئے میں ادا کرتے ہیں اور اگر یہ رقم بورڈ میں جمع کی جائے تو اس سے غریب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کام انجام دیئے جاسکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT