Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں پرانی تاریخوں میں فائیلوں کی یکسوئی

وقف بورڈ میں پرانی تاریخوں میں فائیلوں کی یکسوئی

بورڈ کی تشکیل کے باوجود عہدیداروں کی غیر مجاز حرکت ، صدر نشین بورڈ کا سخت نوٹ ، فائیلوں کی واپس طلبی
حیدرآباد ۔ 8 ۔ مارچ (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی تشکیل کے باوجود عہدیداروں کی جانب سے پرانی تاریخوں میں فائلوں کی یکسوئی سے متعلق شکایات کا صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد سلیم نے سخت نوٹ لیا ہے ۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ سکریٹریٹ میں موجود وقف سے متعلق تمام فائلوں کو فوری طور پر واپس طلب کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد بھی سکریٹری اقلیتی بہبود نے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے بعض فائلوں کی یکسوئی کی جس کے مطابق وقف بورڈ نے پروسیڈنگ بھی جاری کردی ہے ۔ بعض مساجد کمیٹیوں اور متولیوں سے متعلق فیصلے پرانی تاریخ کے ساتھ کئے گئے۔ وقف بورڈ کی تشکیل کے ساتھ ہی سکریٹری اقلیتی بہبود اپنی زائد ذمہ داری عہدیدار مجاز سے سبکدوش ہوگئے لیکن بتایا جاتا ہے کہ ابھی بھی بورڈ کی کئی فائلیں سکریٹریٹ میں موجود ہیں۔ گزشتہ دنوں بعض فائلوں کی یکسوئی کی گئی جبکہ بورڈ کی تشکیل کے بعد صدرنشین یا چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو فیصلہ کا اختیار ہوتا ہے ۔ بورڈ کی جانب سے ابھی تک صدرنشین کو اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ۔ لہذا جناب محمد سلیم فائلوں کی یکسوئی سے گریز کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری کے بعض قریبی افراد سے متعلق فائلوں کی حالیہ دنوں میں یکسوئی کی گئی اور وقف بورڈ کے عہدیداروں نے پرانی تاریخ میں ہی پروسیڈنگ بھی جاری کردی ہے ۔ ایک ایسا معاملہ بھی وقف بورڈ میں زیر بحث ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری نے ایک اوقافی جائیداد کے مقدمہ میں مقررہ اسٹانڈنگ کونسل کے بجائے نئے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اگر وقف بورڈ اسٹانڈنگ کونسل سے ہٹ کر کسی وکیل کی خدمات حاصل کرتا ہے تو اسے اس کی مرضی کے مطابق فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ جس وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے ، ان کی فیس تقریباً 4 لاکھ روپئے بتائی جاتی ہے ۔ وقف بورڈ اپنے اسٹانڈنگ کونسل کی موجودگی میں اس قدر بھاری رقم خرچ کرتے ہوئے خانگی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس طرح کے تمام امور بورڈ کے پہلے اجلاس میں موضوع بحث آسکتے ہیں، جو 11 مارچ کو منعقد ہوگا۔ وقف بورڈ کی تشکیل سے قبل فائلوں کی یکسوئی میں سست رفتاری کے سبب بڑی تعداد میں فائلیں سکریٹریٹ میں موجود تھیں۔ بورڈ کی تشکیل کے بعد اصولاً تمام فائلوں کو وقف بورڈ واپس کیا جانا چاہئے ۔ بورڈ کے نومنتخب ارکان اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ بورڈ کی تشکیل کے باوجود اعلیٰ عہدیدار اپنے قریبی افراد کے حق میں فیصلے کر رہے ہیں جس کا انہیں کوئی اختیار نہیں۔ تشکیل سے عین قبل عہدیدار مجاز نے درگاہ یوسفینؒ کے متولی کے حق میں متنازعہ فیصلہ کیا جس سے بورڈ کے متعلقہ عہدیداروں کو بھی لاعلم رکھا گیا ہے ۔ بورڈ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب میعاد کی تکمیل سے 7 ماہ قبل متولی کی میعاد میں توسیع کے احکامات جاری کردیئے گئے۔ عام طور پر میعاد کی تکمیل سے عین قبل یا اس کے بعد متولی یا کمیٹی کی توسیع کی جاتی ہے لیکن اس معاملہ میں انتہائی رازدارانہ طریقہ سے تمام امور 7 ماہ قبل مکمل کرلئے گئے تاکہ بورڈ کی تشکیل کی صورت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد سلیم نے بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے اور قواعد کے برخلاف کسی بھی کارروائی کو برداشت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کا کوئی بھی فیصلہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور منشائے وقف کے عین مطابق ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT