Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کو روکنے کی کوشش

وقف بورڈ میں چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کو روکنے کی کوشش

محکمہ مال سے اسداللہ کا عدم ریلیو، بعض افراد کی مداخلت کا سلسلہ جاری

محکمہ مال سے اسداللہ کا عدم ریلیو، بعض افراد کی مداخلت کا سلسلہ جاری
حیدرآباد 7 فبروری (سیاست نیوز)وقف بورڈ پر وقف مافیا کے کنٹرول کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تقرر کے باوجود ابھی تک محکمہ مال نے عہدیدار کو ریلیو نہیں کیا ۔ اس طرح تقرر کے احکامات کو ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدہ پر تقرر کردہ عہدیدار نے جائزہ حاصل نہیں کیا۔ حکومت نے محکمہ مال کے ڈپٹی کلکٹر محمد اسد اللہ کو وقف بورڈ کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 جنوری کو احکامات جاری کئے تھے۔ محمد اسد اللہ دفتر چیف کمشنر لینڈ اڈمنسٹریشن میں اسسٹنٹ سکریٹری کے عہدہ پر فائز ہیں ۔ سی ای او کے عہدہ کیلئے ڈپٹی کلکٹر رینک کے عہدیدار کی شرط کے باعث حکومت نے محکمہ مال سے عہدیدار کا انتخاب کیا تا کہ اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کو محکمہ مال کے ریکارڈ سے مطابقت پیدا کرنے میں سہولت ہو۔ اس کے علاوہ اقلیتی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں محکمہ مال سے تعاون حاصل کیا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وقف بورڈ میں موجود بعض عہدیدار اور وقف مافیا ملی بھگت کے ذریعہ محمد اسد اللہ کے تقرر کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ محکمہ مال کے عہدیداروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اسد اللہ کو محکمہ سے ریلیو نہ کریں۔ گذشتہ ایک ہفتہ سے محکمہ اقلیتی بہبود اور ڈپٹی چیف منسٹر کی خصوصی دلچسپی کے باوجود محکمہ مال نے مذکورہ عہدیدار کو ریلیو نہیں کیا ۔ سابق میں ان کے تقرر سے متعلق فائل چیف منسٹر کے دفتر روانگی کے مرحلہ میں غائب کردی گئی تھی۔ تاہم کافی تگ و دو کے بعد فائل برآمد ہوئی اور چیف منسٹر نے تقرر کو منظوری دی ۔ بتایا جاتا ہے کہ مستقل چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تقرر کی صورت میں وقف مافیا سرگرمیوں اور اُن کی فائیلوں کی یکسوئی میں رکاوٹ کو محسوس کرتے ہوئے مافیا سرگرم ہوچکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT