Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کو تین ماہ میں کمپیوٹرائیزڈ کرنے کا منصوبہ

وقف بورڈ کو تین ماہ میں کمپیوٹرائیزڈ کرنے کا منصوبہ

تمام فائلیں آن لائین رہیں گی، ڈسپلن اورورک کلچر کا نفاذ:شاہنواز قاسم
حیدرآباد ۔ 10 ۔اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کو اندرون تین ماہ مکمل کمپیوٹرائزڈ کرتے ہوئے عوامی شکایات کی وصولی اور یکسوئی کو آن لائین کردیا جائے گا ۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ شاہنواز قاسم آئی پی ایس نے بورڈ کی مکمل کارکردگی کو شفاف بنانے کیلئے کمپیوٹرائزیشن کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے سنٹرل وقف کونسل کی جانب سے وقف بورڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے سلسلہ میں فنڈس کی فراہمی کی اسکیم سے استفادہ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سنٹرل وقف کونسل اور مرکزی وزارت اقلیتی امور کے عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا۔ گزشتہ کئی برسوں میں اس اسکیم سے استفادہ کی پہل نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ اور اس کی کار کردگی دیگر سرکاری اداروں کے مقابلہ پسماندہ ہوچکی ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے شاہنواز قاسم نے ہر سیکشن کی کارکردگی کا علحدہ طور پر جائزہ لیا اور اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی کہ ہر سیکشن میں کام کرنے والے عہدیداروں اور ملازمین کی اہلیت کتنی ہے۔ ہر سیکشن میں موجود فائلوں اور ان کی یکسوئی کے بارے میں تفصیلات حاصل کی گئی ہے۔ ہر سیکشن انچارج کو روزانہ کی اساس پر فائلوں کی آمد اور روانگی کی رپورٹ پیش کرنی ہوگی ۔ شاہنواز قاسم نے کہا کہ کمپیوٹرائیزیشن کے ذریعہ ہر سیکشن کی فائلیں آن لائین دستیاب رہیں گی ۔ اس کے علاوہ عوامی شکایات کی صورت میں شکایت کنندہ کو کوڈ نمبر دیا جائے گا جس کے ذریعہ وہ کبھی بھی اپنی شکایت کے موقف کا پتہ چلا سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے ماہرین کے ذریعہ فائل مینجمنٹ سسٹم متعارف کیا جائے گا۔ سکریٹریٹ میں جس طرح تمام فائلیں کمپیوٹرائزڈ ہیں ، اسی طرح وقف بورڈ میں بھی ہر فائل کمپیوٹر پر دستیاب رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون تین ماہ کمپیوٹرائزیشن کا کام مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے ہر سیکشن میں ماتحت ملازمین اور درجہ چہارم ملازمین کیلئے ڈریس کوڈ کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ ان کی شناخت ہوسکے۔ ہر ملازم اور عہدیدار کو شناختی کارڈ پہننا ہوگا ۔ شاہنواز قاسم نے بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین کو انتباہ دیا کہ ڈسپلن شکنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ ہفتہ میں ایک دن عوامی سماعت کی جائے گی اور تمام شکایات کی اندرون 48 گھنٹے یکسوئی کرنی ہوگی۔ واٹس ایپ پر ملنے والی شکایات کا اندرون 24 گھنٹے جواب دینے کی ہدایت دی گئی۔ شاہنواز قاسم نے کہا کہ وہ وقف بورڈ کی کارکردگی کو دیگر اداروںکی طرح بہتر بنانے کے عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر وقف بورڈ کو جس طرح شفاف دیکھنا چاہتے ہیں ، وہ اسی جانب پیشقدمی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں ڈسپلن اور ورک کلچر کا نفاذ ان کی اولین ترجیح ہے۔ شاہنواز قاسم نے وقف بورڈ کے اجلاس کے ایجنڈہ کو مختصر کرنے کی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ شاہنواز قاسم کے ذمہ داری سنبھالتے ہی ان کے اندازِ کارکردگی نے وقف بورڈ میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ بورڈ کے ارکان بھی کسی نمائندگی یا پیروی کے سلسلہ میں آنے سے گریز کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT