Wednesday , December 19 2018

وقف بورڈ کو جائیدادوں کی واپسی کے حکومت کے اقدام کے خلاف وی ایچ پی الیکشن کمیشن سے رجوع

نئی دہلی 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )وشوا ہندو پریشد نے آج حکومت کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست کی تا کہ دہلی کی 123 سرکاری جائیدادوں کی ملکیت دہلی وقف بورڈ کو واپس کرنے کا اقدام روکا جاسکے۔وی ایچ پی نے کہا کہ یہ اقدام انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے وی ایچ پی نے الزام عائد کیا کہ اعلامیہ حصو

نئی دہلی 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )وشوا ہندو پریشد نے آج حکومت کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست کی تا کہ دہلی کی 123 سرکاری جائیدادوں کی ملکیت دہلی وقف بورڈ کو واپس کرنے کا اقدام روکا جاسکے۔وی ایچ پی نے کہا کہ یہ اقدام انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے وی ایچ پی نے الزام عائد کیا کہ اعلامیہ حصول اراضی سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے جائیدادوں کا قبضہ دہلی وقف بورڈ کو دینے کے احکام ، اراضی و تعمیرات بورڈ اور ڈی ڈی اے کو 5 مارچ کو جاری کئے گئے جبکہ ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا تھا۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ ووٹوں کیلئے اقلیتوں پر عنایات کرنے کی کوشش کی گئی ہے یقینی طور پر اس کارروائی کا اثر مرتب ہوگا۔ اور انتخابات کے عمل کی تخلیص مسموم ہوجائے گی۔یہ ایک مخصوص مذہبی اقلیت کو ترغیب دینے کی گندی کارروائی ہے اور انتخابی ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے کے بعد کی گئی ہے۔ وشوا ہندو پریشد نے اس اعلامیہ پر عمل آوری ملتوی کردینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیلئے حکومت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ حکومت کے اس فیصلہ سے وقف بورڈ کو ان جائیدادوں کو اپنی ملکیت ظاہر کرنے یہاں تک کہ انہیںفروخت کردینا کا بھی اختیار حاصل ہوجائے گا۔ ان جائیدادوں میں سے کئی قومی دارالحکومت کے اہم مقامات پر واقع ہیں۔ فی الحال شہری وزارت ترقیات کے تحت ادارہ لاڈو ان 123 جائیدادوں کا مالک ہے۔ جبکہ باقی 42 ڈی ڈی اے کی ملکیت ہے۔بیشتر جائیدادیں کناٹ پیلس میں یا اس کے اطراف و اکناف متھرا روڈ، لودھی روڈ، مان سنگھ روڈ، بنڈارا روڈ، اشوکا روڈ، جن پتھ، پارلیمنٹ ہاوز، کرول باغ ، صدر بازار ، دریا گنج اور جنگ پورہ میں واقع ہیں۔

TOPPOPULARRECENT