Wednesday , September 26 2018
Home / مذہبی صفحہ / وقف بورڈ کیلئے بہترین نقوش

وقف بورڈ کیلئے بہترین نقوش

حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کی اصلاحات کے تناظر میں

حضرت شیخ الاسلام امام محمد انوارﷲ فاروقی فضیلت جنگ بانی جامعہ نظامیہ قدس سرہٗ العزیز کی خدمات مختلف زاویوں سے اپنے معاصر علماء دین کی خدمات سے ممتاز نظر آتی ہیں ۔ منجملہ اس کے ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کی گوناگوں مصروفیات و تجدیدی اقدامات کے ساتھ آپ کی قابل قدر تصانیف پائی جاتی ہیں جو موقعہ و مناسبت سے اُمت کی رہنمائی کیلئے تحریر کی گئی ہیں۔ آپ کی تمام تصانیف تاحال اپنے موضوع اور اسلوب خطاب و طرز استدلال میں قوت تاثیر کے علاوہ تنازعات سے بالکل پاک ہیں۔ آپ کی کوئی تحریر ملت میں انتشار یا اُمت کے افتراق کا سبب نہیں بنی ۔ اس کے علاوہ آپ نے نظامت اُمور مذہبی ، صدرالصدور صوبجات دکن اور وزارت اُمور مذہبی کے گرانمایہ عہدہ ہائے جلیلہ کو قبول فرماکر امانت و دیانت کے ساتھ جو جامع اصلاحات فرمائی ہیں وہ دور حاضر میں ہندوستان کی ہر ریاست میں پائے جانے والے وقف بورڈ کے لئے مشعل راہ ہے ۔

حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمۃ والرضوان جب وزیر اُمور مذہبی مقرر ہوئے تو آپ نے شہر و مضافات میں اطمینان بخش و فعال کارکردگی کے علاوہ صوبجات دکن کے اضلاع کا دورہ فرمایا اور نہایت دقت نظری سے بنفس نفیس ایک ایک چیز کا نوٹ لیا ۔ اس کی ایک مثال ’’یادداشت اورنگ آباد ‘‘ کے نام سے شائع شدہ رپورٹ ہے جو اورنگ آباد ، پٹن ، خلد آباد ، جالنہ اور رونہ پڑارہ کے پندرہ روزہ دورہ کی روائیداد ہے ۔ دیگر مزارات کے علاوہ درگاہ حضرت شاہ علی صاحب نہری قدس سرہ کے معائنہ کے دوران آپ نے چھوٹی سی چھوٹی چیز کا جو باریک بینی سے نوٹ لیا ہے وہ ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے : ’’اس درگاہ کی حالت نہایت خراب ہے ۔ جس قدر عمارات ہیں سب شکستہ و افتادہ ہیں۔ صندل کا دالان جو خاص صاحب درگاہ کی عبادت گاہ تھا بالکل افتادہ ہے ۔ سرہانے کا دالان جس میں عرس کے موقع پر ختم خوانی ہوتی ہے بالکل شکستہ ہے ، خانقاہ کی دیواریں اور حجرے بالکل افتادہ ہیں صرف چھت باقی ہے ۔ مدرسہ کا جو مکان ہے اس کی عمارت جدید معلوم ہوتی ہے مگر اس پر چونہ دوبارہ ہوا ہے اور نہ سہ بارہ ۔ مسجد کا بیت الخلاء بالکل افتادہ ہے جس سے مسافروں اور مصلیوں کو بیحد تکلیف ہوتی ہے ۔ مسجد کاموتیہ جو پتھر کا ہے وہ بھی جابجا شکستہ ہوگیا ہے ۔ اندر کے حوض میں پانی بالکل نہیں ہے ۔ بہرحال اکثر مکانات قابل تعمیر واصلاح پائے گئے اور حالت مقامی گواہی دیتی ہے کہ یہ مکانات اندرون احاطہ وقفی ہیں ، یہ درگاہ چونکہ اسٹیشن کے راستہ پر واقع ہے اور جس سے مسافروں کو بیحد آرام پہنچ سکتا تھا نہایت درست و صاف حالت میں رہنے کی ضرورت تھی مگر باووجود اس کے اور باوجود ایک کثیر معاش عطا ہونے کے بالکل خراب حالت میں ہے … سرکار نے جو اسقدر معاش عطا کی ہے اس سے بڑا مقصود رونق درگاہ قائم رکھنا ہے۔ تنازعات اور مخاصمات باہمی کا یہ اثر ہرگز نہیں ہوسکتا کہ درگاہ کی حالت خراب رہے ، اس لئے تعلقدار صاحب کو لکھا گیا کہ اگر سجادہ صاحب کو ان کی تعمیر کرنے میں کسی قسم کاعذر ہو اور فی الواقع وہ عذر درست بھی ہو تو معاش مشروط سے بطور سرکاری وقفی امکنہ متعلقہ درگاہ کی تعمیر بہت جلد کرادی جائے اور حسب کیفیت منسلکہ حسب ضابطہ کارروائی کی جائے اور مصدق نقول اسنادات روانہ کئے جائیں تاکہ مشروط عطا معلوم ہوسکیں‘‘ ۔ (یادداشت اورنگ آباد ص : ۱۸۔۱۹)
مندرجہ بالا اقتباس حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمتہ کے دردمند دل کی عکاسی کرتا ہے کہ آپ کو اوقاف کے اغراض و مقاصد کے تحفظ اور اس کے شروط کی تعمیل کی کس قدر فکر تھی اور آپ نے کس طرح دوردراز مقامات میں واقع درگاہوں ، مزرات کے زائرین اور عام مسافرین کو سہولتیں بہم پہنچانے کیلئے کسی تعطل کے بغیر احکامات جاری فرمائے ۔ علاوہ ازیں آپ نے متعدد مقامات پر اسنادات کے مصدقہ نقول کو طلب فرمایا تاکہ اطمینان کیا جاسکے کہ معاش کے لئے مقررہ شروط ادا ہو بھی رہے ہیں یا نہیں ؟

آج بھی بہت سی مساجد غیرآباد ہیں اور غیرمسلمین کے قبضہ و تصرف میں ہیں ، سابق میں بھی ایسی کیفیت رہی بلکہ مسجد اور قبرستان کی اراضی پر مورتیوں کو غیرقانونی طورپر رکھ کر مندر و دیول بنانے کی کوششیں قدیم سے جاری ہیں اس ضمن میں حضرت شیخ الاسلام کا ایک اقتباس بڑا معنی خیز ہے : مسجد گو شہید ہوجائے مگر ہمیشہ وہ مقام واجب التعظیم رہتا ہے اور ایسے مقامات کی حفاظت اور اس کی حرمت کو باقی رکھنا مسلمانوں پر فرض ہے … اس موقعہ پر یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ جس وقت گرنی کے لئے یہ زمین دی گئی تھی اسی وقت یہ خیال رہنا ضرور تھا کہ مسجد غیرمذہب والوں کے حوالہ کرنے میں اقسام کے مفاسد کا اندیشہ ہے مگر اب اُسکی تلافی نہیں ہوسکتی ، کیونکہ مسجد کے گردوپیش بڑی بڑی عمارتیں تعمیر ہوگئی ہیں اور وسیع و مستحکم کمپونڈ تیار کرلیاگیا ہے البتہ اس وقت یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ جس وقت یہ مسجد گرنی کے حوالہ کردی گئی اُسوقت کوئی اس سے متعلق شرط بھی کی گئی تھی یا نہیں اس لئے ضلع سے وہ مثل طلب کرلی گئی جس میں یہ زمین گرنی کو دینے کی اجازت دی گئی ہے ‘‘ ۔ (نفس کتاب ص : ۴۹۔۵۰) حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنے اس دورہ میں خلدآباد اور جالنہ کے تالابوں کا معائنہ فرمایا ۔ جالنہ کے تالاب سے متعلق جو رپورٹ رقم فرمائی وہ قابل ذکر ہے : ’’معلوم ہوتا ہے کہ تالاب اہل شہر کی آبنوش کے لئے بنایا گیا ہے ۔ چنانچہ اب تک اس کا پانی بذریعہ نل شہر میں آتا ہے مگر دریافت سے معلوم ہوا کہ صرف کالی مسجد تک پانی آتا ہے ۔ شہر میں نلوں کی خرابی کی وجہ سے پانی نہیں پہنچتا اور اہل شہر کو پانی کی سخت تکلیف ہے ۔ تالاب اس قدر وسیع ہے کہ تمام اہل شہر کے لئے اس کا پانی کافی ہوسکتا ہے ۔ سرکار کی فیاضی سے بلحاظ رفاہ عام جدید ذرائع ، رفاہ خلائق کے مہیا کئے جاتے ہیں۔ بخلاف اس کے جب پہلے سے تالاب موجود ہے تو اس کے فائدے سے خلائق کا محروم رہنا خاص قابل توجہہ سرکار ہے ، تعلقدار صاحب سے دریافت کیاگیا کہ اگر اس تالاب کا پانی تمام بستی کو پہنچایا جائے تو اس کے کیا مصارف ہوں گے اور کس مد سے یہ کام کیا جائے ‘‘ ۔ (کتاب مذکور ص: ۷۹)

حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان کے مطابق دفتر قضاء ت کے فرائض میں دیہات کے مسلمانوں کی اصلاح اور وعظ و نصیحت کے ذریعہ اوامر ونواہی سے آگاہ کرنا شامل ہے ۔ اس سلسلہ میں کوتاہی پر ناراضگی کو ظاہر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : دفتر کے معائنہ سے ظاہر ہوا کہ اس سال صرف تین موضع کا دورہ ہوا ہے ۔ یہ تعداد دورہ بہت کم ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ فریضۂ اصلاح اس قضاء ت میں انجام نہیں پایا ۔ ہر قضاء ت سے متعلق صرف دو ہی فرائض ہیں۔ ایک تنظیم سیاہیہ ، دوسرا اصلاح حالاتِ مسلمانِ دیہات ۔ یہاں صرف ایک ہی فریضہ ادا ہورہا ہے ۔ دوسرا اہم فریضہ متروک ہوگیا ہے ، نائب صاحب کو ہدایت کی گئی کہ دورہ کرکے تلافی مافات کریں ورنہ محکمہ صدارت بھی وہ اختیارات عمل میں لائیگا جو سرکار سے اُسے عطا ہوئے ہیں‘‘۔ (کتاب مذکور ص : ۷۵)
آخر میں اس مضمون کو حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمۃ والرضوان کے ایک اقتباس پر ختم کیا جاتا ہے جس کو آپ نے اس یادداشت کی ابتداء میں بطور تمہید رقم فرمایا ہے : ’’سررشتہ اُمور مذہبی اگرچہ ایک مدت دراز سے قائم ہے مگر اُس کا عدم و وجود یکساں تھا ۔ عملی نتائج جیسے کہ اور محکمہ جات کے برآمد اور شائع ہوتے ہیں اس محکمہ کے برآمد ہوتے نہیں دیکھے گئے ۔ اگر اتفاق سے کچھ نتائج برآمد بھی ہوئے ہوں تو وہ ’’النادر کالمعدوم‘‘ کی تعریف میں داخل ہونگے مگر الحمدﷲ کہ اس مبارک دور عثمانی صافہ اﷲ عن الشرور والبرکات نے سررشتہ مذہبی پر بھی پرتو ڈالا اور اس عہد مبارک میں محکمہ جات نظامت اُمور مذہبی اور صدارت کے جو عملی نتائج برآمد ہوئے اور ہورہے ہیں وہ اظہرمن الشمس ہیں‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT