Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی تقسیم کے باوجود آندھرا پردیش وقف بورڈ کا ’’بورڈ‘‘ برقرار

وقف بورڈ کی تقسیم کے باوجود آندھرا پردیش وقف بورڈ کا ’’بورڈ‘‘ برقرار

عمارات حج ہاوز میں غیر سماجی عناصر کی سرگرمیاں ، گراونڈ فلور پر ناجائز قبضہ
حیدرآباد۔/15جنوری، ( سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے بعد مختلف محکمہ جات کے اثاثہ جات کی تقسیم عمل میں آچکی ہے لیکن بعض اداروں پر ابھی بھی آندھرائی افراد کا تسلط برقرار ہے۔ اس کا تازہ ثبوت محکمہ اقلیتی بہبود کی عمارت حج ہاوز ہے جس پر آج بھی آندھرا پردیش اسٹیٹ وقف بورڈ کا بورڈ آویزاں ہے جبکہ یہ عمارت تلنگانہ وقف بورڈکی ملکیت ہے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کی تقسیم کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا اور عہدیداروں اور ملازمین کی تقسیم عمل میں آچکی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ریاستوں کی فائیلیں اور اثاثہ جات بھی تقسیم کردیئے گئے۔ تنظیم جدید قانون کے مطابق جس ریاست میں جو جائیداد ہوگی وہ اسی ریاست کا حصہ ہوگی۔ اس اعتبار سے حج ہاوز کی 10منزلہ عمارت تلنگانہ وقف بورڈ کی ملکیت قرار پاتی ہے لیکن آندھرائی عہدیداروں کے تسلط اور دبدبہ کے سبب عمارت پر آج بھی آندھرا پردیش کا بورڈ برقرار ہے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے عہدیدار شاید اس بورڈ کو نکالنے سے خوفزدہ ہیں۔ اس بورڈ کی جگہ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کا بورڈ آویزاں کیا جانا چاہیئے۔ چونکہ آندھرا پردیش میں ایک پولیس عہدیدار وقف بورڈ اُمور کے انچارج ہیں لہذا تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیدار بورڈ ہٹانے سے خوفزدہ ہیں۔ متحدہ ریاست میں مذکورہ پولیس عہدیدار نے نہ صرف بدعنوان متولیوں بلکہ وقف بورڈ کے بدعنوان ملازمین کے خلاف کارروائی کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی تلنگانہ وقف بورڈ میں ان کا خوف باقی ہے۔

دوسری طرف حج ہاوز کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اگرچہ یہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے لیکن کنٹرول اس کا نہیں۔ کوئی بھی ادارہ اپنی مرضی سے یہاں سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں کئی غیر سرکاری افراد بھی اس عمارت میں غیر مجاز طور پر سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے عمارت کے گراؤنڈ فلور پر غیر مجاز طریقہ سے ایک زیراکس سنٹر قائم کردیا گیا جس کی وقف بورڈ سے اجازت نہیں لی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ حج کمیٹی کے بعض افراد کی سرپرستی میں یہ سنٹر کام کررہا ہے جس میں زیراکس اور دیگر آن لائن سہولتوں کیلئے من مانی رقم وصول کی جارہی ہے۔ وقف بورڈ کے احاطہ میں اس طرح کے سنٹر کے بارے میں جب چیف ایکزیکیٹو آفیسر سے پوچھا گیا تو انہوں نے ابتداء میں لاعلمی کا اظہار کیا تاہم بعد میں اعتراف کیا کہ کئی برسوں سے بلااجازت یہ سنٹر موجود ہے۔ اس سنٹرکی خدمات کیلئے عوام کو مجبور کیا جاتا ہے، کئی اقلیتی ادارے حتیٰ کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد و رنگاریڈی کے ملازمین کی اس سنٹر سے ملی بھگت ہے جس کے نتیجہ میں معمولی کاموں کیلئے بھی بارہا زیراکس طلب کیا جاتا ہے۔

شادی مبارک اور دیگر اسکیمات کے آن لائن رجسٹریشن کیلئے می سیوا سنٹر سے زائد رقم وصول کی جاتی ہے۔ جب وقف بورڈ کی ناک کے نیچے حج ہاوز میں ناجائز قبضہ ہوجائے جسے نکالنے سے وقف بورڈ قاصر ہو تو پھر شہر اور اضلاع کی اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کس طرح ممکن ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ نے اس سنٹر کو گزشتہ ایک سال کا کرایہ ماہانہ 30ہزار کے حساب سے ادا کرنے کی نوٹس دی لیکن بعض اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی کے نتیجہ میں یہ معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا۔ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر حج ہاوز کے احاطہ میں عوام کیلئے اس طرح کی خدمات فراہم کرنا ہے تو اوپن آکشن کے ذریعہ سنٹر کے قیام کیلئے جگہ دی جاسکتی ہے۔ اب جبکہ حج سیزن کا آغاز ہوچکا ہے یہ سنٹر عازمین حج کی خدمات کے نام پر کافی فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ اس غیر مجاز سنٹر کیلئے برقی اور دیگر سہولتیں مفت حاصل کی جارہی ہیں۔ اقلیتی بہبود کے سکریٹری سید عمر جلیل کو فوری اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔ حج ہاوز میں اور بھی غیر مجاز سرگرمیاں عروج پر ہیں اور رات کے اوقات میں حج ہاوز کا احاطہ خانگی پارکنگ کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر سماجی عناصر بھی عمارت کے احاطہ میں مختلف سرگرمیوں میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT