Friday , October 19 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی مہربندی، وقف ایکٹ کی صریح خلاف ورزی

وقف بورڈ کی مہربندی، وقف ایکٹ کی صریح خلاف ورزی

منتخبہ بورڈ پر قانونی بحث کا آغاز، قانونی لڑائی حیدرآباد ہائیکورٹ پنچ گئی
حیدرآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے منتخبہ وقف بورڈ کی موجودگی میں بورڈ کے دفاتر کو مُہر بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قانونی بحث چھیڑ دی ہے۔ وقف بورڈ کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب منتخبہ بورڈ کی موجودگی کے باوجود حکومت نے اسے بے خاطر کردیا اور اس کے دفاتر کو مُہر بند کرتے ہوئے مکمل ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ وقف قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام وقف ایکٹ 1995 کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سلسلہ میں منتخبہ وقف بورڈ کی خاموشی معنیٰ خیز تصور کی جارہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے اختیارات سے تجاوز کیا لیکن بورڈ کے ارکان حکومت کے فیصلہ کی ستائش کررہے ہیں۔ قانونی لڑائی اب حیدرآباد ہائی کورٹ تک پہنچ چکی ہے جہاں حکومت کے فیصلہ کو چیالنج کرتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی جس کی سماعت آئندہ ہفتہ ہوگی۔ حکومت نے جی او ایم ایس 9 مورخہ 22 مارچ 2017 وقف بورڈ تشکیل دیا تھا۔ وقف ایکٹ 1995 کے تحت حکومت کو بورڈ کی موجودگی میں فائیلوں اور ریکارڈ کو مُہر بند کرنے یا ضبط کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وقف بورڈ ایک خود مختار ادارہ ہے اور حکومت کسی بھی غلطی یا خامی کی صورت میں بورڈ سے استفسار کرسکتی ہے لیکن بورڈ کی اطلاع کے بغیر اس طرح کی مُہر بندی نہیں کی جاسکتی۔ وقف ایکٹ کی دفعہ 97 کے تحت حکومت کو اختیار ہے کہ وہ کسی مسئلہ پر بورڈ کو ہدایت دے سکتی ہے جبکہ دفعہ 99 کے تحت حکومت کو بورڈ کی تحلیل اور اسپیشل آفیسر کے تقرر کا اختیار حاصل ہے۔ تلنگانہ حکومت نے اس طرح کی کسی صورتحال کے بغیر صرف یکطرفہ فیصلہ کیاہے جو منتخب بورڈ کے کام کاج میں صریح مداخلت ہے۔ ہائی کورٹ میں درخواست گذار نے سکریٹری اقلیتی بہبود، پرنسپل سکریٹری ریونیو، کلکٹر حیدرآباد اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کو مقدمہ میں فریق بنایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT