وقف بورڈ کی کارروائی شخصی عنادیا مکتب فکر کی بنیاد پر نہیں

رضائے الہیٰ پیش نظر ، مذہبی شخصیتیں اب تک خاموش کیوں تھیں ، شیخ محمد اقبال کی پریس کانفرنس

رضائے الہیٰ پیش نظر ، مذہبی شخصیتیں اب تک خاموش کیوں تھیں ، شیخ محمد اقبال کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/6مئی، ( سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال نے انجمن سجادگان و متولیان اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ان پر عائد کردہ الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے ایک مخصوص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں اور بارگاہوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور منشائے وقف کے مطابق ان کے استعمال کو یقینی بنانے کیلئے وقف ایکٹ کے تحت کارروائی کررہے ہیں۔ لیکن بعض گوشے اسے مخصوص رنگ دیتے ہوئے وقف بورڈ کی کارروائیوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ علاقائی یا کسی مخصوص مکتب فکر کی بنیاد پر کارروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے تلنگانہ، آندھرا اور رائلسیما تینوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان اوقافی اداروں کے خلاف کارروائی کی جو وقف قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کی الزام تراشی سے خائف ہونے والے نہیں ہیں کیونکہ ان کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی رضا ہے لہذا وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ دراصل اللہ کا ادارہ ہے اور اوقافی جائیدادوں کے مالک اللہ تعالیٰ ہیں۔ وقف بورڈ صرف نگرانکار و نگہبان کا موقف رکھتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گذار ہیں کہ اس نے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلم مذہبی شخصیتوں کی جانب سے عائد کردہ الزامات پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے بلکہ صرف اتنا کہیں گے کہ ہر کسی کو خدا حضور جواب دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے مختلف اداروں کے علاوہ انہوں نے کرنول، کڑپہ، رحمت آباد، نیلور اور پینوکونڈہ کے اداروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ وقف ایکٹ کے تحت متولی‘ عوامی خدمت گذار ہوتے ہیں لیکن انجمن سجادگان کے نمائندے اس سے انکار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقف ایکٹ شریعت سے ٹکراتا ہے تو پھر ان مذہبی شخصیتوں کو حکومت سے نمائندگی کرنی چاہیئے تھی۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ کئی اداروں کے خلاف کارروائی پر یہ شخصیتیں خاموش رہیں لیکن مولانا اکبر نظام الدین کی معطلی کے ساتھ ہی بے بنیاد الزامات کے ساتھ میدان میں آئے ہیں۔ وقف بورڈ کی کوئی بھی کارروائی کسی شخصی عناد یا مخصوص مکتب فکر کی بنیاد پر نہیں بلکہ قواعد کی خلاف ورزی کی بنیاد پر ہے اور وہ وقف ایکٹ کے تحت ہی کارروائی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر خانہ جی گوڑہ کی 84ایکر وقف اراضی کو مولانا اکبر نظام الدین کے جی پی اے نے جعلی دستخط کے ساتھ فروخت کردیا تو پھر ابھی تک پولیس میں شکایت کیوں درج نہیں کی گئی جبکہ یہ فروخت کے معاملات 1987ء اور 1990ء کے درمیان کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اکبر نظام الدین جو وقف بورڈ کے رکن رہ چکے ہیں وہ اس اراضی کے تحفظ کی کارروائی کرسکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فروخت کی معاملت کے سلسلہ میں وہ متعلقہ سب رجسٹرار آفس سے تمام ریکارڈ طلب کررہے ہیں۔ انہوں نے انجمن سجادگان و متولیان کے اس دعویٰ کو بھی غلط قرار دیا کہ صابر گلشن ذاتی جائیداد ہے۔ اسپیشل آفیسر نے کہا کہ 1984ء کے وقف گزٹ میں اس کا تذکرہ ہے اور2012ء میں خود ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے مولانا اکبر نظام الدین نے اسے وقف مشروط الخدمت قرار دیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اندرون 10یوم تحقیقات کے دوران اگر مولانا اکبر نظام الدین اطمینان بخش جواب دیتے ہیں تو ان کی معطلی برخواست کی جائے گی ورنہ معطلی میں توسیع کرتے ہوئے باقاعدہ تحقیقات شروع کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کا وقف بورڈ کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے حامی یا مخالف نہیں ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ اب تک جن اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی انہیں عدالت سے کوئی راحت نہیں ملی اور ہائی کورٹ نے ہر معاملہ میں تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ البتہ تین متولیوں کی گرفتاری کے سلسلہ میں عبوری حکم التواء جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈکی جانب سے دائر کردہ اب تک کے کسی بھی ایف آئی آر کو عدالت نے خارج نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ انجمن سجادگان و متولیان کے ذمہ دار حقائق سے ناواقفیت کی بنیاد پر اس طرح کے الزامات عائد کررہے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو کسی بھی ادارہ کے خلاف کارروائی سے متعلق ریکارڈ کا وقف بورڈ پہنچ کر مشاہدہ کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT