Sunday , May 27 2018
Home / مضامین / وقف بورڈ کی کارکردگی اور موجودہ حالات

وقف بورڈ کی کارکردگی اور موجودہ حالات

سید محمد افتخار مشرف
وقف بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی چیف منسٹر نے شخصی طور پر کارروائی کرتے ہوئے بورڈ میں جائیدادوں اور اراضیات کے ریکارڈ میں دھاندلیوں کا پتہ چلانے کیلئے بورڈ کے ریکارڈس کو مُہر بند کرنے کی کلکٹر حیدرآباد یوگیتا رانا کو ہدایت دی، اور کلکٹر حیدرآباد نے اپنے ماتحت عہدیداروں اور پولیس ٹیم کے ساتھ پہنچ کر وقف بورڈ کو مُہر بند کردیا۔ 1954 میں ریاست کے اُسوقت کے مسلم قائدین ، مفکرین، دانشوران ملت نے شاید یہ سوچ کر حکومت پر دباؤ ڈالا تھا کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ، دیکھ بھال اور ترقی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے بورڈ بنایا جائے جو کہ ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس وقت ہندو اوقاف کو حکومت نے اپنی تحویل میں لیکر محکمہ انڈومنٹ قائم کیا۔ ریاست کی تمام ہندو اوقافی جائیدادیں اس محکمہ کے تحت آگئیں، یہ محکمہ ان جائیدداوں کی ترقی اور دیکھ بھال اچھی طرح کررہا ہے۔ مسلم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لئے وقف بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اگر آپ وقف بورڈ کی کارکردگی کا گراف دیکھیں تو 1954 سے لیکر آج تک مسلسل گرتا جارہا ہے۔ افسوس کہ یہ بورڈ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ ، دیکھ بھال اور ترقی میں ناکام رہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بورڈ میں سیاسی مداخلت اور بورڈ ممبروں کی کارکردگی، غیر کارکرد لوگوں کو متولیاں بنانا اور کمیٹیوں کے ممبر بنانا شامل ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق آج ریاست تلنگانہ میں 32,157 اوقافی جائیداد دائرے میں ہیں۔ جبکہ اوقافی زمینات 77538.07 ایکر بنائے گئے ہیں جس پر 90 فیصد ناجائز قابضین کا قبضہ ہے۔ کوئی یہ جواب ہے کہ1954 سے لیکر آج تک کو ئی صدرنشین، بورڈ ممبران یا وقف بورڈ کے عہدیداران ان جائیدادوں کا تحفظ کیوں نہیں کرسکے۔؟
یوں تو دونوں ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں جملہ اوقافی جائیدادیں اس طرح ہیں: اوقافی ادارے 35,708 ہیں اور اوقافی زمینات 1,95,511,94 ایکرس ہیں۔ آندھرا پردیش میں اوقافی ادارے3546 ہیں اور اوقافی زمینات 67,973,87 ایکرس ہیں۔ یہ صرف کاغذ پر موجود ہیں۔ ایک ماہر معاشیات کے بموجب اگر ان تمام اوقافی اراضیات کا تخمنہ کیا جائے تو تقریباً70 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ بآسانی وقف بورڈ کی آمدنی ہوگی جس سے مسلمانوں کی معاشی، تعلیمی ترقی ہوگی اور مسلم معاشرتی نظام مستحکم ہوسکتا ہے۔ وقف جائیدادوں کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض، مگر ان اوقافی جائیدادوں کو اغیار سے زیادہ نقصان اپنوں نے کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں نے تقریباً تین سو سال تک حکومت کی انہی مسلم حکمرانوں نے اولیاء کرام کے کرامات اور دعاؤں سے فیض یاب ہوکر کئی جاگیریں ان اولیاء کرام کے خانقاہوں کے نام کردیں مگر کبھی بھی ان اولیاء کرام نے اپنی جاگیروں کا استعمال اپنی ذات کیلئے نہیں کیا ۔ بلکہ وہ جو بھی تحائف یا نذرانے آئے تھے وہ سب اپنے غریب مریدوں اور مسلمانوں میں تقسیم کردیئے تھے وہ صرف اللہ تعالیٰ کے بھروسہ زندگی گذارتے تھے۔ مگر آج کا دور بالکل مختلف ہوگیا ہے۔ کوئی بھی جائیداد منشاء وقف کے تحت وقف کی جاتی ہیں مگر افسوس کہ وقف بورڈ منشاء وقف کے تحت کام نہیں کرتا کیونکہ وقف بورڈ کے عہدیدار اور ملازمین وہی کرتے ہیں جو ان کے مطلب کا ہوتا ہے۔ سیاسی مداخلت اور ممبران کی خودغرضی اور مطلب پرستی کی وجہ سے کئی اہم اوقافی جائیدادوں کی تباہی ہوئی ہے۔
تلنگانہ وقف بورڈ میں راقم الحروف کو بھی تقریباً 3 سال خدمت کرنے کا موقع ملاہے ۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ دوسرے دفاتر سے ہٹ کر وقف بورڈ میں کام کرنے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ یہاں ایک اوقافی ادارہ کی کئی فائیلیں بتائی جاتی ہیں ، کونسی فائیل میں کیا کارروائی کی گئی ہے معلوم نہیں ہوتا۔ یہاں کوئی پرسنل رجسٹر کا نظام نہیں اس رجسٹر سے فائیلوں میں کی گئی کارروائیوں کا اندراج ہوتا ہے۔ فائیلوں پر کئی سالوں تک کارروائی نہیں ہوتی کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور نہ ان کو جواب دہی کا ڈر ہے۔ وقف بورڈ میں اسٹاف کی کمی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ المیہ یہ ہے کہ بورڈ پر اپنا کنٹرول رکھنے والے ارکان اپنی پسند کے افراد کا تقرر کرتے ہیں ۔ جبکہ وہ نااہل ہوتے ہیں تاکہ ان ارکان کے کاموں کی باآسانی تکمیل ہوسکے۔ بورڈ میں رہ کر یہ افراد ان کے مفادات کی نگہبانی کرسکیںانہی افراد کی وجہ سے کئی اوقافی جائیدادیں تباہ و برباد ہوئیں۔ ہر اعلیٰ عہدیدار وقف بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات کئے لیکن بورڈ کے موجودہ عہدیدار اور ملازمین اس کی مخالفت کرتے رہے کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ قابل عہدیداروں کی آمد سے ان کی نااہلی کا پول کھل جائے گا۔ وقف بورڈ میں سوایء چند عہدیداروں کے دیگر ملازمین اپنے عہدہ کے مطابق درکار قابلیت سے محروم ہیں۔ فائیلوں کی یکسوئی اور ان پر نوٹ لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ دوسری اہم وجہ وقف بورڈ کی دوسرے محکموں سے تال میل بالکل نہیں ہے۔ وقف بورڈ محکمہ مال اور پولیس کی بیساکھیوں پر کھڑا ہے۔ مگر وقف بورڈ ان دو محکموں سے تال میل نہیں رکھتا اس لئے یہ دو محکموں کے عہدیدار اوقافی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ وقف بورڈ میں تقررات کا کوئی سسٹم نہیں ہے۔ یہاں پر ہر شخص جو پہلے سے ملازم ہے اپنے اپنے خاندانی لوگوں کے تقررات کروالئے ہیں جو ان عہدوں کیلئے اہلیت نہیں رکھتے۔ ہر ضلع میں ایک انسپکٹر آڈیٹر وقف رکھا گیا ہے جس کا رینک جونیر اسسٹنٹ سے بھی کم ہے۔ یہ انسپکٹر آڈیٹر اس ضلع کی تمام اوقافی جائیدادوں اور اداروں کا نگرانکار ہوتا ہے کیا یہ انسپکٹر آڈیٹر اپنے ضلع کے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرسکتا ہے۔ ایک جونیر اسسٹنٹ رینک کے آدمی کو کلکٹر صاحبان خاطر میں لاتے ہیں۔ یہ کیا کلکٹر صاحبان سے اپنے ضلع کی اوقافی جائیدادوں کے بارے میں بات کرسکتے ہیں؟ یہ انسپکٹر آڈیٹر وقف بورڈ کے وجود سے آج تک کبھی اوقافی آمدنی کی آڈیٹ نہیں کی کیونکہ ان کو آڈٹ کرنا آتا ہی نہیں۔ یہ لوگ آڈٹ کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ کیا ایسے لوگ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرسکتے ہیں؟
وقف بورڈ میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو وقف مافیا سے ملی بھگت رکھتے ہیں۔ وقف بورڈ میں کی جارہی کارروائی کی پل پل کی رپورٹ وقف مافیا کے متعلقہ شخص کو پہنچائی جاتی ہے۔ کیا ایسے لوگوں سے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہوسکے گا؟ 1954 یعنی وقف بورڈ کے وجود سے لیکر آج تک اوقافی جائیدادوں کا اندراج رونیو ریکارڈ میں نہیں گیا گیا۔ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟تمام زمینات کے متعلق سوائے گزٹ نوٹیفکیشن کے کچھ بھی نہیں ۔ اس سے روینیو ریکارڈ میں اوقافی جائیدادوں کا اندراج ممکن نہیں۔
کئی برسوں سے غیر مجاز قابضین اوقافی جائیدادوں پر قابض ہیں جن کے نام یہ لوگ بہت پہلے ریونیو ریکارڈس میں اندراج کروالئے ہیں۔ کیا وہ مالک جائیداد بن گئے؟ جبکہ سپریم کورٹ کے ایک حکمنامہ کے مطابق ایک بار وقف کی گئی جائیداد تاقیامت وہ وقف ہی رہیں گی۔ اس سروے میں اوقافی جائیدادوں کے متعلق تمام ڈاکیومنٹس متعلقہ ریونیو عہدیداروں کے سامنے پیش کرنا ہوگا تاکہ اس کا اندراج ریونیو ریکارڈ میں کیا جائے۔ کیا وقف بورڈ تلنگانہ کی تمام اوقافی جائیدادوں کے تمام ڈاکیو منٹس موجودہ سروے کے دوران متعلقہ عہدیداروں کو پییش کرسکتا ہے۔ جبکہ وقف بورڈ میں کئی اوقافی ائیدادوں کے ریکارڈ س ہی نہیں ہیں۔ اوقافی جائیدادوں ریونیو ریکارڈس میں اندراج ہوجائے تاکہ تلنگانہ کی تمام اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا جاسکے گا۔

TOPPOPULARRECENT