Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی کارکردگی میں بہتری کے لیے اصلاحات کا فیصلہ

وقف بورڈ کی کارکردگی میں بہتری کے لیے اصلاحات کا فیصلہ

ملازمین کی تقسیم کا عمل پورا نہیں ہوا ، دستاویزات کے کمپیوٹرائزیشن کا کام ادھورا

ملازمین کی تقسیم کا عمل پورا نہیں ہوا ، دستاویزات کے کمپیوٹرائزیشن کا کام ادھورا
حیدرآباد۔/26اگسٹ، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے اور ورک کلچر کے آغاز کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود نے بورڈ میں اصلاحات متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ کے مطابق نہ صرف وقف بورڈ کے ہیڈ کوارٹر حیدرآباد میں کارکردگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا اور کارکردگی میں شفافیت پیدا کی جائے گی بلکہ اضلاع میں واقع وقف بورڈ کے دفاتر کو مستحکم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ وقف بورڈ میں اگرچہ عہدیداروں اور ملازمین کی کوئی کمی نہیں تاہم بورڈ کی کارکردگی کے بارے میں مختلف گوشوں سے شکایات وصول ہورہی ہیں۔ سابق اسپیشل آفیسر شیخ محمد اقبال ( آئی پی ایس ) نے بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بعض قدم اٹھائے تھے لیکن ان کی میعاد کی تکمیل کے باعث یہ کام ادھورا رہ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عہدیداروں اور ملازمین کی موجودگی کے باوجود متحدہ آندھرا کی تقسیم کو تین ماہ مکمل ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک بورڈ تقسیم نہیں ہوسکا۔ اس کے علاوہ اوقافی جائیدادوں سے متعلق دستاویزات اور فائیلوں کے کمپیوٹرائزیشن کا کام بھی ابھی تک ادھورا ہے حالانکہ اس سلسلہ میں عبوری اور کنٹراکٹ کی بنیادوں پر تقررات کئے گئے تھے۔ بورڈ کی اس سُست رفتار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے محکمہ نے بعض اصلاحی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق میں ملازمین کی بروقت حاضری کو یقینی بنانے کیلئے بائیومیٹرک حاضری کا سسٹم متعارف کیا گیا تھا لیکن وہ تجربہ ناکام ثابت ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ متحدہ آندھرا پردیش وقف بورڈ میں مستقل ملازمین کی تعداد 195 ہے جبکہ 70ملازمین کنٹراکٹ اور عبوری بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جہاں تک حیدرآباد میں وقف بورڈ کے دفتر کا سوال ہے یہاں مستقل ملازمین کی تعداد 146اور عبوری ملازمین 60ہیں۔ متحدہ ریاست میں ملازمین کی تنخواہوں پر مجموعی خرچ 50لاکھ روپئے تک ہے جبکہ ہیڈ آفس کے ملازمین کی تنخواہیں ماہانہ 35 تا 40 لاکھ ہوتی ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں کا خیال ہے کہ تنخواہوں پر اس قدر بھاری خرچ کے باوجود بورڈ کی کارکردگی کے نتائج توقع کے مطابق نہیں ہیں لہذا مختلف شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران بورڈ میں اقرباء پروری کی بھی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ 35سے زائد ایسے ملازمین ہیں جو بھاری تنخواہیں حاصل کررہے ہیں لیکن ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے، ان میں 15 ملازمین کا تعلق صرف ایک ضلع سے ہے جہاں سے سابق صدرنشین کا تعلق تھا جبکہ 20ملازمین ایسے ہیں جو بورڈ میں موجود عہدیداروں کے فرزند یا پھر قریبی رشتہ دار ہیں اس کے علاوہ کئی ایسے افراد ہیں جو وظیفہ پر سبکدوشی کے باوجود خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح کے ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور انہیں جواب دہ بنایا جائے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کا خیال ہے کہ غیر کارکرد اور بغیر کام کاج کے بھاری تنخواہیں حاصل کرنے والے مستقل اور عبوری ملازمین کو مختلف اضلاع میں تعینات کرتے ہوئے وہاں بورڈ کی سرگرمیوں کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ اضلاع میں وقف بورڈ کے تحت انتہائی کم ملازمین ہیں اور وہ اپنے متعلقہ ضلع کے تمام اوقافی مسائل کی یکسوئی سے قاصر ہیں لہذا ملازمین کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT