Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی کارکردگی میں غیر مجاز افراد کی مداخلت

وقف بورڈ کی کارکردگی میں غیر مجاز افراد کی مداخلت

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے کوشاں عہدیداروں کو دھمکیاں ، کام کاج متاثر
حیدرآباد۔/16فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کی کوششوں کو غیر مجاز افراد کی مداخلت سے نقصان ہورہا ہے۔ حکومت میں شامل افراد، سیاسی قائدین حتیٰ کہ اعلیٰ عہدیداروں کی بار بار مداخلت اور قواعد کے برخلاف بعض افراد کے حق میں فیصلوں کے لئے دباؤ نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو اُلجھن میں مبتلاء کردیا ہے صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ سے وقف بورڈ کے اُمور میں مختلف گوشوں سے مداخلت کے سبب کام کاج بری طرح متاثر ہوا ہے اور اہم اوقافی اراضیات و جائیدادوں کے تحفظ کے منصوبہ میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض اوقافی جائیدادوں کے معاملات میں وقف ایکٹ کے خلاف کام کرنے کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر پر دباؤ بنایا جارہا ہے اور جب وہ وقف ایکٹ کا حوالہ دیتے ہیں تو انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ گزشتہ دنوں بشیر باغ کی اوقافی جائیداد کے کرایہ داروں کے حق میں کیا گیا فیصلہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس معاملہ میں دو مرتبہ لیگل سیکشن نے کرایہ داروں سے معاہدہ کی مخالفت کی تھی۔ عہدیداروں پر بڑھتے دباؤ سے واضح ہوچکا ہے کہ وقف بورڈ میں اصول پسند اور دیانتدار افراد کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں سے قربت رکھنے والے افراد مخصوص اراضیات اور جائیدادوں کی فائیلیں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ بعض متولیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف وقف بورڈ کو کارروائی سے روکا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہاوز میں گزشتہ تین برسوں سے موجود غیر مجاز زیراکس و آن لائن سرویس سنٹر کی بحالی کیلئے وقف بورڈ کے عہدیداروں پر حکومت میں شامل افراد کی جانب سے نہ صرف دباؤ بنایا جارہا ہے بلکہ دھمکی آمیز لہجہ میں گفتگو کی شکایات ملی ہیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر اور وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز نے اس غیر مجاز سنٹر کے خلاف کارروائی کی تھی اور نئے معاہدہ کے تحت اجازت دینے سے اتفاق کیا۔ تاہم بعض گوشے بلا معاوضہ یا پھر انتہائی معمولی رقم پر اجازت دیئے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک ریٹائرڈ عہدیدار کی سرپرستی اور پیروی کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور یہ ریٹائرڈ عہدیدار ہر اقلیتی ادارہ کے اُمور میں بیجا مداخلت کیلئے مشہور ہے۔ وقف بورڈ کے قواعد کے مطابق ٹنڈر طلب کرتے ہوئے زیراکس سنٹر کیلئے جگہ فراہم کی جاسکتی ہے لیکن اس معاملہ میں اصول پسند عہدیداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی سیاسی جماعت کے قائدین کی اوقافی اُمور میں بیجا مداخلت نے بھی کام کاج میں رکاوٹ پید کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض اندرونی ملازمین سے ملی بھگت کے ذریعہ مقامی جماعت کے ایک عوامی نمائندہ روزانہ کسی نہ کسی اوقافی جائیداد کے ریکارڈ کے حصول کیلئے پہنچ جاتے ہیں اور متولیوں، کمیٹیوں، لیز اور دیگر معاملات میں اپنے پسندیدہ افراد کے حق میں فیصلہ کیلئے زور دیتے ہیں۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں کا احساس ہے کہ جب تک بیجا مداخلت بند نہیں ہوگی اس وقت تک اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ممکن نہیں ہوگا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ خود اعلیٰ عہدیدار اور بعض عوامی نمائندے منشائے وقف کے خلاف کام کرنے کیلئے اصرار کررہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے شیخ محمد اقبال اور ایم جے اکبر نے جن متولیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا ان معاملات کو برفدان کی نذر کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT