Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کل اعلیٰ سطحی اجلاس

وقف بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کل اعلیٰ سطحی اجلاس

اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کا بھی جائزہ ، 16 اکٹوبر کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی میٹنگ
حیدرآباد ۔ 10۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے وقف بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے 12 اکتوبر کو اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ بورڈ کی کارکردگی اور حالیہ عرصہ میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات کے ساتھ اجلاس میں شرکت کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے پاس اقلیتی بہبود کے جائزہ اجلاس سے قبل ڈپٹی چیف منسٹر نے مختلف اقلیتی اداروں کا انفرادی طور پر جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اقلیتی اسکیمات پر موثر عمل آوری اور بجٹ کے خرچ میں ناکامی جیسے امور جائزہ اجلاس میں اہم موضوع رہیں گے ۔ 16 اکتوبر کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور اسکیمات کے سلسلہ میں بجٹ کی اجرائی پر گزشتہ تین برسوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی میں سست رفتاری کو دور کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر نے فینانس سکریٹری اور وزیر فینانس کے ساتھ علحدہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر نے آج سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں کے ساتھ اوقافی امور پر بات چیت کی۔ حالیہ عرصہ میں بعض درگاہوں کے انتظامات کے ہراج کے معاملات زیر بحث رہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ نے صرف قرارداد کی بنیاد پر بعض اہم درگاہوں کے انتظامات ہراج کے بجائے نامینیشن کی بنیاد پر حوالے کردیئے، جس سے بورڈ کو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے ۔ درگاہ حضرت جہانگیر پیراں کے انتظامات 90 لاکھ روپئے میں نامینیشن کی بنیاد پر کنٹراکٹر کے حوالے کردیئے گئے ۔ اس کے علاوہ درگاہ جان پاک شہید نلگنڈہ اور اروے پلی کی درگاہ کے انتظامات بھی نامینیشن کی بنیاد پر حوالے کردیئے گئے۔ درگاہ جان پاک شہید اور جہانگیر پیراں کے انتظامات گزشتہ سال جس رقم پر ہراج کئے گئے تھے ، ان سے کافی کم رقم میں نامینیشن پر اس مرتبہ حوالے کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے بورڈ کے ملازمین اور عہدیداروں کی جانب سے دو کروڑ روپئے کے حسابات پیش نہ کرنے کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کی جانب سے بیک وقت دو اداروں سے تنخواہ حاصل کرنے کی وضاحت طلب کی جس پر سکریٹری اقلیتی بہبود نے وضاحت کی کہ یہ غیر قانونی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بورڈ سے متعلق کئی معاملات کی تفصیلات جائزہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔

TOPPOPULARRECENT