Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی 2 کروڑ روپئے کی خطیر رقم خطرہ میں !

وقف بورڈ کی 2 کروڑ روپئے کی خطیر رقم خطرہ میں !

74 عہدیدار اور ملازمین نے حسابات داخل نہیں کئے ، ریٹائرڈ ملازم 59 لاکھ کے بلس باقی
حیدرآباد۔ 7 اکتوبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیلئے ایک طرف صدرنشین محمد سلیم مساعی کررہے ہیں تو دوسری طرف بورڈ کے 74 عہدیدار اور ملازمین بورڈ کو تقریباً 2 کروڑ روپئے کا حساب پیش کرنا باقی ہے۔ حکام کی جانب سے رقم کی وصولی کیلئے کارروائی کے آغاز پر ملازمین کی جانب سے مزاحمت کی جارہی ہے۔ مختلف کاموں کی تکمیل کیلئے بورڈ نے گزشتہ 11 برسوں میں عہدیداروں اور ملازمین کو پیشگی کے طور پر ایک کروڑ 90 لاکھ 95 ہزار 184 روپئے جاری کئے ، لیکن ان برسوں میں کئی عہدیدار ریٹائرڈ ہوگئے اور موجودہ عہدیدار اور ملازمین کسی نے خرچ کی تفصیلات داخل نہیں کی ۔ لہذا بورڈ نے ان رقومات کو تنخواہوں سے منہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق بورڈ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قابل ادائیگی رقم کے اعتبار سے وصولی کا سلاب مقرر کیا جائے اور ہر ماہ تنخواہ سے یہ رقم منہا کرلی جائے۔ گزشتہ ماہ کی تنخواہ سے بورڈ نے پیشگی رقم کی وصولی کی مہم شروع کی جس کے ساتھ ہی عہدیداروں اور ملازمین نے ناراضگی ظاہر کرکے کارروائی کو موخر کرنے صدرنشین و سی ای او دباؤ بنانے کی کوشش کی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ 74 افراد کی فہرست میں ڈرائیور سے لے کر ایگزیکٹیو درجہ کے عہدیدار موجود ہیں۔ ان میں سے بعض سبکدوش ہوگئے لیکن پیشگی رقم کو ادا نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ میں مختلف اوقافی اداروں کے کاموں کی انجام دہی کیلئے انسپکٹر آڈیٹرس اور دیگر ملازمین کو پیشگی رقم جاری کی جاتی ہے اور کام کی تکمیل پر بلس داخل کرنا ہوتا ہے۔ بورڈ ریکارڈ کے مطابق 74 عہدیدار اور ملازمین نے پیشگی رقم کے خرچ کا کوئی حساب پیش نہیں کیا۔ بورڈ نے اس طرح کے کاموں کیلئے پراجیکٹ سیکشن موجود ہے لیکن یہ سیکشن برائے نام ہوکر رہ گیا ہے۔ مختلف درگاہوں کے عرس سے عین قبل تعمیری و مرمتی کاموں کیلئے عہدیدار اور ملازمین پیشگی رقم حاصل کرتے ہیں۔ 74 افراد میں بعض عہدیدار ایسے ہیں جو بورڈ کو لاکھوں روپئے باقی ہیں۔ 25 انسپکٹر آڈیٹرس نے بھی کاموں کیلئے حاصل کردہ پیشگی رقم کا حساب داخل نہیں کیا۔ روزنامہ سیاست کے پاس اُن تمام ملازمین کی فہرست مع رقم کی تفصیلات موجود ہے جو وقف بورڈ کو رقم کا حساب پیش کرنا ہے۔ ایک ریٹائرڈ ملازم جو رینٹ کلکٹر کا کام کر رہے ہیں، انہیں 59 لاکھ 35 ہزار 349 روپئے کا حساب داخل کرنا ہے۔ فہرست میں رقم کے اعتبار سے پراجیکٹ آفیسر دوسرے نمبر پر ہیں جنہیں 26 لاکھ 26 ہزار 289 روپئے کے بلس داخل کرنا ہے۔ درگاہ جہانگیر پیراںؒ کے سپرنٹنڈنٹ سے 18 لاکھ 56 ہزار 969 روپئے کے حسابات آنا باقی ہے۔ ان کے علاوہ مزید 10 عہدیدار ایسے ہیں جن کو فی کس 5 تا 10 لاکھ روپئے رقم کے خرچ کا حساب پیش کرنا باقی ہے۔ 9 عہدیدار ایسے ہیں جن کے حصہ میں ایک تا دیڑھ لاکھ روپئے کا حساب باقی ہے۔ سب سے کم تر رقم کا جس ملازم کو حساب داخل کرنا ہے وہ ٹپال سیکشن کے دو ملازمین ہیں جن کے ذمہ فی کس 200 روپئے کا حساب باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ملازمین رقم کے خرچ کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن وہ بلس طلب کرنے کے خلاف ہیں۔ دراصل رقم کے بے جا استعمال کا پتہ چلانے کیلئے بلس داخل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے اور گزشتہ 11 برسوں میں جب بلس داخل نہیں کئے گئے تو آگے ملازمین سے کیا اُمید کی جاسکتی ہے۔ جب عہدیدار اور ملازمین کا یہ رویہ ہو تو پھر بورڈ کو نقصان کیلئے کسے ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT