Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کے مسئلہ پر عدالت میں عدم پیروی پر حکومت اے پی کی ناراضگی

وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کے مسئلہ پر عدالت میں عدم پیروی پر حکومت اے پی کی ناراضگی

حکومت تلنگانہ کو اپیل دائر کرنے کی خواہش ، چیف منسٹر کی عدم اجازت سے مسئلہ تعطل کا شکار

حکومت تلنگانہ کو اپیل دائر کرنے کی خواہش ، چیف منسٹر کی عدم اجازت سے مسئلہ تعطل کا شکار
حیدرآباد ۔13 ۔ اپریل (سیاست نیوز) آندھراپردیش حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کے مسئلہ پر ہائیکورٹ میں مقدمہ کی عدم پیروی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ آندھراپردیش حکومت نے تلنگانہ حکومت سے خواہش کی کہ وہ اسپیشل آفیسر کے تقرر کے خلاف ہائیکورٹ کے سنگل جج کے احکامات کے خلاف ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کرے۔ تلنگانہ حکومت اور خاص طور پر محکمہ اقلیتی بہبود اس سلسلہ میں کسی بھی پیشرفت سے قاصر ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت اپیل دائر کرنے کیلئے تیار ہے تاہم اس سلسلہ میں چیف منسٹر کی اجازت ابھی حاصل نہیں ہوئی ہے جبکہ آندھراپردیش حکومت کا کہنا ہے کہ محکمہ کو اپیل دائر کرنے کیلئے چیف منسٹر کی اجازت کی ضرورت نہیں کیونکہ محکمہ کے سکریٹری خود حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اسپیشل آفیسر کے تقرر کو کالعدم کئے جانے سے متعلق احکامات کو ڈیویژن بنچ پر چیلنج کرنے میں جاری تساہل کو دیکھتے ہوئے سکریٹری اقلیتی بہبود آندھراپردیش شیخ محمد اقبال نے تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے ربط قائم کیا اور فوری اپیل دائر کرنے کی خواہش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے فوری اپیل دائر نہ کرنے کی صورت میں آندھراپردیش حکومت اپنے ایڈوکیٹ جنرل کے ذریعہ اپیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں شیخ محمدا قبال نے محکمہ قانون کی رائے حاصل کی ہے تاکہ وقف بورڈ میں جاری تعطل کو ختم کیا جاسکے۔ چونکہ وقف بورڈ ابھی منقسم نہیں ہوا لہذا آندھراپردیش حکومت کو بور ڈ کے امور مداخلت کا اختیار ہے۔ سکریٹری آندھراپردیش کا کہنا ہے کہ اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب وقف بورڈ سے متعلق امور کی یکسوئی میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ فوری ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کرتی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے پاس وقف بورڈ سے متعلق دو تجاویز زیر غور ہیں، جن میں ایک ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کرنا اور دوسرا وقف بورڈ کے امور کی نگرانی کیلئے سہ رکنی کمیٹی کی تشکیل ہے۔ آندھراپردیش حکومت نے سہ رکنی کمیٹی کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے اور محکمہ قانون کی رائے حاصل ہونے کے بعد آندھراپردیش کا محکمہ اقلیتی بہبود اپیل دائر کرنے کی تیاریوں کا آغاز کردے گا۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے گزشتہ تین ہفتوں سے اپیل دائر کرنے کے مسئلہ کو زیر التواء رکھنے پر مختلف گوشوں میں شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ حکومت ایک طرف اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کر رہی ہے تو دوسری طرف اسپیشل آفیسر کے عدم تقرر یا پھر متبادل انتظامات نہ کرتے ہوئے حکومت نے وقف بور ڈ کو عملاً مفلوج کردیا ہے ۔ اس بات کا اندیشہ ہے کہ اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی میں اہم فائلوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے۔ ایسے کئی مقدمات ہیں جن کی کارروائی جاری ہے اور متعلقہ افراد مذکورہ فائلوں میں چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ریکارڈ غائب کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ وقف بورڈ میں فائلوں کے تحفظ کا مناسب نظم نہیں اور بور ڈ میں خود بعض عناصر ایسے موجود ہیں جن کی وقف مافیا سے ملی بھگت ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود آندھراپردیش شیخ محمد اقبال نے آج چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ کو طلب کرتے ہوئے اسپیشل آفیسر کے مقدمہ کی پیشرفت کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو اسپیشل آفیسر کے بغیر رکھنا اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں عدم دلچسپی کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسپیشل آفیسر کے مقدمہ کی پیروی میں دلچسپی نہیں رکھتی تو اسے چاہئے کہ وہ بورڈ کی تشکیل کے اقدامات کرے یا پھر عدالت سے اپیل کی جائے کہ وہ متبادل انتظامات تک اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل نگرانکار کمیٹی تشکیل دے جس طرح کے 1996 ء میں ہائیکورٹ نے سہ رکنی نگرانکار کمیٹی قائم کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اوقافی امور سے متعلق مفادات حاصلہ اور مقامی سیاسی جماعت کی جانب سے عدالت میں اپیل دائر کرنے کی اس لئے بھی مخالفت کی جارہی ہے کیونکہ وہ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے جلال الدین اکبر کی برقراری کے حق میں نہیں۔ لہذا وہ ان کے سفارش کردہ افراد پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی کی تشکیل کیلئے حکومت پر دباؤ بنارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT