Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / وقف بورڈ کے این او سی تنازعہ کی جامع تحقیقات کی ہدایت

وقف بورڈ کے این او سی تنازعہ کی جامع تحقیقات کی ہدایت

حکومت کا سخت موقف، اے کے خاں کی کمشنر پولیس سے بات چیت، محمد سلیم نے چیف منسٹر کے دفتر کو واقف کرایا
حیدرآباد۔/13مئی، ( سیاست نیوز) حکومت نے ملکاجگیری میں اوقافی اراضی کے این او سی سے متعلق تنازعہ کا سنجیدگی سے نوٹ لیا ہے اور اس سلسلہ میں پولیس کو تحقیقات کی عاجلانہ تکمیل کی ہدایت دی گئی۔ ملکاجگیری میں 4 ایکر 5 گنٹے اوقافی اراضی کو غیر اوقافی قراردیتے ہوئے گزشتہ سال ماہ مئی میں وقف بورڈ سے این او سی جاری کیا گیا تھا۔ معاملہ کے منظر عام پر آنے کے بعد اسوقت کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی نے اپنی دستخط سے این او سی کی اجرائی سے انکار کیا جس کے بعد معاملہ پولیس سے رجوع کیا گیا۔ اراضی کے دعویداروں کی جانب سے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے ملاقات کرتے ہوئے بھاری رقم ادا کرنے کا انکشاف کیا جس کے بعد اس معاملہ کی جانچ کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی اُمور اے کے خاں نے بتایا کہ درگاہ حضرت میر محمود پہاڑی کے تحت موجود اس اوقافی اراضی کے این او سی کی تحقیقات پہلے ہی سے جاری ہیں لہذا انہوں نے کمشنر پولیس انجنی کمار سے ربط قائم کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کرنے کی خواہش کی۔ انجنی کمار نے اس مسئلہ کی تحقیقات کے تازہ ترین موقف کا جائزہ لیتے ہوئے جلد رپورٹ پیش کرنے کا تیقن دیا۔ تحقیقات میں بھاری رقم کی ادائیگی کے مسئلہ کو بھی شامل کیا جائیگا۔ پولیس نے دستخط کی سچائی جاننے کیلئے معاملہ فارنسک لیاب سے رجوع کیا تھا۔ اے کے خاں نے کہا کہ وقف بورڈ کے موجودہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر ایک آئی پی ایس عہدیدار ہیں اور وہ اس طرح کے معاملات کو نمٹنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے شاہنواز قاسم کو مشورہ دیا کہ وہ رقم ادا کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کا بیان ریکارڈ کریں۔ حکومت ضرورت پڑنے پر اس معاملہ کو اینٹی کرپشن بیورو یا سی بی سی آئی ڈی سے رجوع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ تازہ ترین صورتحال سے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف منسٹر کے سکریٹری بھوپال ریڈی کو واقف کرادیا ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر نے اس معاملہ کا سنگین نوٹ لیتے ہوئے خاطیوں کا پتہ چلانے کی ہدایت دی۔ اے کے خاں نے کہا کہ جو کوئی بھی قصور وار پائے جائیں گے بھلے ہی وہ کسی عہدہ پر کیوں نہ ہوں اُن کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی اراضی کو غیر اوقافی قرار دیتے ہوئے این او سی جاری کرنا سنگین جرم ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر شاہنواز قاسم تحقیقات کے سلسلہ میں کمشنر پولیس انجنی کمار سے ملاقات کریں گے۔ بھاری رقم ادا کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کو صدرنشین وقف بورڈ نے پیر کے دن وقف بورڈ کے اجلاس میں طلب کیا ہے تاکہ ارکان کو تفصیلات سے آگاہ کیا جاسکے۔ مذکورہ افراد نے کچھ دستاویزات جو صدرنشین کے حوالے کئے وہ بھی اجلاس میں پیش کئے جائیں گے۔ وقف بورڈکا اجلاس کل پہلے ہی سے طئے شدہ ہے اور تازہ ترین تبدیلیوں کے پیش نظر این او سی اور بھاری رشوت کا معاملہ ایجنڈہ پر چھایا رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق منان فاروقی ان دنوں امریکہ میں ہیں لہذا وہ رد عمل کیلئے دستیاب نہیں ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT