Tuesday , June 26 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے بحران کی یکسوئی میں حکومت تلنگانہ کی غیر سنجیدگی

وقف بورڈ کے بحران کی یکسوئی میں حکومت تلنگانہ کی غیر سنجیدگی

حیدرآباد ۔8 ۔ اپریل (سیاست نیوز) وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب پیدا شدہ بحران کی یکسوئی میں حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے سلسلہ میں ایڈوکیٹ جنرل اور لاء ڈپارٹمنٹ کی رائے حاصل کرنے کے بعد متعلقہ فائل چیف منسٹر کی منظوری کی منتظر ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے سنگل جج کے فیصلہ ک

حیدرآباد ۔8 ۔ اپریل (سیاست نیوز) وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب پیدا شدہ بحران کی یکسوئی میں حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کے سلسلہ میں ایڈوکیٹ جنرل اور لاء ڈپارٹمنٹ کی رائے حاصل کرنے کے بعد متعلقہ فائل چیف منسٹر کی منظوری کی منتظر ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے سنگل جج کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کی اجازت کے بعد ہی عدالتی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ 24 مارچ کو ہائیکورٹ کے سنگل جج جسٹس کودنڈا رام نے اسپیشل آفیسر کے تقرر کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی درخواست پر عبوری فیصلہ سنایا تھا جس میں انہوں نے اسپیشل آفیسر کے تقرر سے متعلق جی او کو کالعدم کردیا۔وقف ایکٹ کے تحت وقف بورڈ کو عہدیدار یا پھر منتخب بورڈ کے بغیر خالی رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس سے بورڈ کا کام کاج بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیدار ڈیویژن بنچ پر اپیل کے سلسلہ میں تمام دستاویزی ریکارڈ کے ساتھ ایڈوکیٹ جنرل سے مسلسل رجوع ہورہے ہیں۔ تاہم ایڈوکیٹ جنرل کے دفتر کی جانب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل نے اس مقدمہ کے بارے میں اپنی رائے حکومت کو پیش کی ہے جس کا جائزہ لیتے ہوئے چیف منسٹر کو قطعی فیصلہ کرنا ہے۔ وقف بورڈ میں جاری بحران کے سبب ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اپنی دیگر مصروفیات کے سبب بورڈ سے متعلق فائل کا جائزہ لینے کے موقف میں نہیں ہے۔

اگر حکومت کی جانب سے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے یا پھر متبادل انتظام کرنے میں تاخیر کی صورت میں بورڈ میں صورتحال مزید ابتر ہوجائے گی۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اس مسئلہ پر چیف سکریٹری سے بات چیت کی اور حکومت کی جانب سے فوری اپیل دائر کرنے کی خواہش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے اپیل دائر نہیں کی گئی تو مستقبل میں کوئی بھی شخص وقف بورڈ کے خلاف اس طرح کا فیصلہ بآسانی حاصل کرلے گا۔ اوقافی جائیدادوں کے سلسلے میں بعض مفادات حاصلہ کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر عدالت سے رجوع ہونے میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT