Saturday , December 15 2018

وقف بورڈ کے تعطل کو ختم کرنے دو علیحدہ کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز

تحفظ وقف اراضیات کیلئے چیف منسٹر کا سخت موقف، بورڈ کے ملازمین میں تشویش کی لہر
حیدرـآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کے ریکارڈ اور دستاویزات کو مُہر بند کرنے کے بعد پیدا شدہ تعطل کی یکسوئی کیلئے حکومت دو علحدہ کمیٹیوں کی تشکیل کا ارادہ رکھتی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ جاریہ اراضی سروے میں وقف اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے چیف منسٹر نے یہ قدم اٹھایا۔ حکومت کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ جاریہ اراضی سروے کے دوران وقف اراضیات کے غیر مجاز قابضین وقف ریکارڈ کو غائب یا پھر اس میں اُلٹ پھیر کرسکتے ہیں تاکہ وقف اراضیات ریونیو ریکارڈ میں شامل نہ ہوسکیں اور وہ اُن کی ذاتی ملکیت بن جائیں۔ وقف مافیا کی نظریں ریاست کی کئی اہم اراضیات پر تھیں جس کا ریکارڈ وقف بورڈ میں محفوظ ہے۔ وقف بورڈ اس موقف میں نہیں کہ اپنے ریکارڈ کی بنیاد پر ریونیو عہدیداروں کو مطمئن کرسکے اور اراضی پر قبضہ حاصل کرے۔ ان حالات میں چیف منسٹر نے مکمل ریکارڈ اور فائیلوں کو تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تاکہ اراضی سروے کی تکمیل تک ریکارڈ سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جاسکے۔ سابق میں کئی اہم اراضیات اور جائیدادوں کا ریکارڈ وقف بورڈ سے غائب کردیا گیا ہے۔ موجودہ ریکارڈ میں بھی کئی ایسی اراضیات ہیں جن کے مکمل دستاویزات موجود نہیں۔ لنک ڈاکیومنٹس کے بغیر ادھوری دستاویزات کی موجودگی سے بورڈ کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا لہذا چیف منسٹر نے وقف بورڈ کے دفتر کو مُہر بند کرنے انتہائی قدم اٹھایا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے وقف بورڈ کے عہدیداروں سے دریافت کیا تھا کہ ریاست کے 570 منڈلوں میں وقف بورڈ کی اراضی کتنی ہے اور اس میں سے کتنی اراضی وقف بورڈ کے قبضہ میں ہے۔ وقف بورڈ کے قبضہ میں موجود اراضی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں لہذا عہدیدار اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے قاصر رہے۔چیف منسٹر اس بات پر برہم ہیں کہ وقف بورڈ میں 120 سے زائد عہدیداروں اور ملازمین کی موجودگی کے باوجود اراضیات کا مستند ریکارڈ موجود نہیں۔ عہدیدار صرف حیدرآباد میں بیٹھ کر اراضیات کی تحویل کا دعویٰ کررہے ہیں جبکہ بنیادی حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ چیف منسٹر نے کئی ضلع کلکٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے سروے میں اوقافی اراضیات کے موقف کا پتہ چلانے کی کوشش کی جس پر انہیں بتایا گیا کہ وقف بورڈ نے سروے میں شمولیت کے ذریعہ ابھی تک مستند ریکارڈ پیش نہیں کیا ہے جس کے باعث وقف اراضی کا پتہ چلانا ممکن نہیں۔ جو کام وقف بورڈ کے عہدیدار برسوں تک کرنہیں پائے چیف منسٹر نے یہ کام ریونیو حکام سے لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ریکارڈ کو تحویل میں لینے کی ہدایت دی۔ وقف بورڈ کیلئے نہ صرف اراضی کی نشاندہی مشکل ہے بلکہ ریونیو حکام بھی وقف انسپکٹرس کو خاطر میں نہیں لاتے ایسے میں چیف منسٹرکا یہ اقدام اراضیات کی نشاندہی میں اہم رول ادا کرسکتا ہے بشرطیکہ حکومت کی نیت اس فیصلہ کے پیچھے اراضیات کا تحفظ ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ پیر کے دن موجودہ تعطل کے سلسلہ میں حکومت کوئی فیصلہ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریکارڈ کی مُہربندی فوری طور پر ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں حالانکہ وقف بورڈ کے صدرنشین اور ارکان نے تجویز پیش کی تھی کہ ریکارڈ سیکشن کو چھوڑ کر دیگر انتظامی فائیلوں کو مُہر بندی سے آزاد کیا جائے اور روز مرہ کے کام کاج کا موقع فراہم کیا جائے۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر نے قضأت جیسے اہم سیکشن کو بھی مُہر بندی سے استثنیٰ دینے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سرٹیفکیٹ کبھی بھی حاصل کرسکتے ہیں پہلے ریونیو حکام کو ریکارڈ کی جانچ مکمل کرنے دی جائے۔ حکومت کے اس فیصلہ سے وقف بورڈ کے ملازمین مختلف اندیشوں کا شکار ہیں اور انہیں تحقیقات کا خوف کھائے جارہا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں اور فائیلوں میں اُلٹ پھیر اور غائب ہوجانے کیلئے ملازمین کو ذمہ دار قرار دیا اور سی بی سی آئی ڈی یا سی بی آئی تحقیقات کی مانگ کی ہے۔ وقف بورڈ کے صدرنشین اور ارکان کیلئے حکومت کے اس اقدام کی تائید کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا کیونکہ حکومت سے ٹکراؤ کی صورت میں بورڈ کی تحلیل ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT