Saturday , February 24 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے دفتر اور ریکارڈ کو مہربند کرنے کا اختیار نہیں ، حکومت کا اعتراف

وقف بورڈ کے دفتر اور ریکارڈ کو مہربند کرنے کا اختیار نہیں ، حکومت کا اعتراف

حکومت کو طریقہ کار پر چلنے عدالت کا مشورہ ، مفادِ عامہ کی درخواست پر ڈیویژن بنچ کی سماعت
حیدرآباد۔ 16 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے حیدرآباد ہائیکورٹ میں اعتراف کیا کہ وقف قانون کے تحت اسے بورڈ کے دفتر اور ریکارڈ کو مہربند کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے تاہم نیک ارادے اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے یہ کارروائی کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کا مقصد اچھا ہے لیکن اسے طریقہ کار پر چلنا چاہئے کیونکہ یہ وسیع تر عوامی مفاد کا مسئلہ ہے۔ حیدرآباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کارگذار چیف جسٹس رمیش رنگاناتھن اور جسٹس ابھینند کمار شیوال پر مشتمل ڈیویژن بینچ نے مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے حکومت کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وقف بورڈ کی کارکردگی میں سدھار اور خامیوں کو اصلاح کے لئے یہ کارروائی کی گئی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لئے صرف ریکارڈ روم کو مہربند کیا گیا ہے۔ 6 عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے تاکہ وقف ریکارڈ بہتر انداز میں ترتیب دیں اور اس سے بورڈ کی روزمرہ کی سرگرمیوں پر اثر نہیں پڑے گا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 14 نومبر کو میمو جاری کرتے ہوئے بورڈ کی باقاعدہ سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا نہ کرنے کی ہدایت دی۔ حکومت بہت جلد متعلقہ عہدیداروں سے مشاورت کے ذریعہ بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کا منصوبہ تیار کریگی۔ عدالت میں حکومت کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی۔ درخواست گذار کے وکیل نے استدلال پیش کیا کہ حکومت کو دفتر یا ریکارڈ مہربند کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ بینچ نے جب حکومت کے اختیارات کے بارے میں پوچھا تو ایڈوکیٹ جنرل نے تسلیم کیا کہ حالانکہ حکومت کو اختیار نہیں لیکن وقف جائیدادوں کے تحفظ کے مقصد سے یہ قدم اُٹھایا گیا۔ بینچ نے منی کنڈہ میں اوقافی اراضیات پر قبضہ کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارک کیا کہ حکومت کا مقصد اچھا ہے اور عدالت وقف بورڈ کے مفادات کا تحفظ کریگی۔ عدالت نے درخواست گذار سے کہا کہ روزمرہ کی سرگرمیوں میں کسی رکاوٹ کی صورت میں عدالت کو واقف کرائیں۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت منگل کو مقرر کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT