Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے قضاء ت سیکشن میں ملازمین کی سرگرمیوں پر سخت نظر

وقف بورڈ کے قضاء ت سیکشن میں ملازمین کی سرگرمیوں پر سخت نظر

ملازمین کو سرٹیفکیٹس کی درخواستوں کو قبول نہ کرنے کی ہدایت، سی ای او بورڈ کا دورہ
حیدرآباد۔/6مئی، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کے شعبہ قضأت میں بے قاعدگیوں کی شکایت پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ ایم اے منان فاروقی نے اچانک سیکشن کا دورہ کرتے ہوئے ملازمین کی سرزنش کی۔ انہوں نے درخواستوں کی قبولیت کے سلسلہ میں صدرنشین اور ان کی جانب سے دی گئی ہدایات کو نظرانداز کئے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور متنبہ کیا کہ اگر ملازمین کی جانب سے سرٹیفکیٹ کی درخواست داخل کی جائے تو اسے ہرگز قبول نہیں کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک متعلقہ امیدوار یا اس کے کوئی خونی رشتہ دار رجوع نہ ہوں اس وقت تک درخواستیں قبول نہ کی جائیں۔ شعبہ قضأت میں ان دنوں بے قاعدگیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور صدرنشین محمد سلیم کی جانب سے جاری کردہ سخت ہدایت کے باوجود کینٹین میں باقاعدہ ایک کاؤنٹر کام کررہا ہے جہاں سے بروکرس اور ایجنٹس اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ درخواستوں کی فوری یکسوئی کے نام پر بھاری رقومات حاصل کی جارہی ہیں۔ قضأت سیکشن کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرے سے بچنے کیلئے ایجنٹس کی سرگرمیاں کینٹین سے چل رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ درمیانی افراد اور قضأت کے ملازمین اور وقف بورڈ کے دیگر ملازمین کے درمیان گٹھ جوڑ ہے جس کے نتیجہ میں عام آدمی متاثر ہورہا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو شکایت موصول ہوئی ہے کہ قضأت سیکشن کے دو ملازمین روزانہ 10سے زائد درخواستیں داخل کرتے ہیں اور ہر درخواست پر انہیں 500 تا 1000 روپئے کی آمدنی ہے۔ اس کے علاوہ نظام آباد سے درخواستوں کا ایک بنڈل وقف بورڈ کے چند ملازمین کے نام پر موصول ہوتا ہے جس کی عاجلانہ یکسوئی میں وقف بورڈ کے ملازمین سرگرم رول ادا کرتے ہیں۔ اس بات کی شکایت ملی ہے کہ ایک ملازم شہر کے ایک صدر قاضی کا ایجنٹ ہے جہاں کی تمام درخواستوں کو وہ اپنے ساتھ لاکر سرٹیفکیٹ حاصل کرتا ہے۔ اعلیٰ حکام کے احکامات کی دھجیاں اُڑانے کا معاملہ اسوقت سامنے آیا جب چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی کی قضأت سیکشن سے روانگی کے فوری بعد مذکورہ ملازم نے بڑی تعداد میں درخواستیں داخل کی جبکہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کا حکم تھا کہ ملازمین کی جانب سے ایک بھی درخواست داخل نہ کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ شعبہ قضأت میں زائد آمدنی کے سبب کوئی بھی ملازم اس سیکشن کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں جبکہ بے قاعدگیوں کے مکمل ثبوت ملنے پر ہے چیف ایکزیکیٹو آفیسر اور صدرنشین نے سیکشن میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سیکشن میں سابق سے وابستہ رہے کئی ملازمین ابھی بھی ایجنٹس کی طرح کام کررہے ہیں یا پھر مختلف قاضیوں کی درخواستوں کو داخل کرتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں اسی سیکشن سے ایک پاکستانی شہری کو میریج سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا جس کی پولیس کی جانب سے تحقیقات بھی کی گئیں۔ قضأت سیکشن سے عوام کو مسائل کا سامنا ہے جبکہ ایجنٹس اور درمیانی افراد راج کررہے ہیں۔ وقف بورڈ نے اس سیکشن پر کڑی نظر رکھی ہے اور محکمہ پولیس کے ذریعہ کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ بے قاعدگیوں کا مستقل طور پر خاتمہ ہو۔ اس سیکشن سے وابستہ ملازمین کو بعض عناصر کی سرپرستی حاصل ہے جس کے نتیجہ میں وہ کھل کر اعلیٰ عہدیداروں کے احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور وہ خلاف ورزی کیوں نہ کریں جبکہ انہیں روزانہ ہزاروں روپئے کی آمدنی ہے۔

TOPPOPULARRECENT