وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات کی عدم کارکردگی پر صدرنشین کی برہمی

سینکڑوں مقدمات کے کائونٹرس تیار نہیں، چھ انسپکٹرس کا تبادلہ ، ہفتے کارکردگی رپورٹ پیش کرنے محمد سلیم کی ہدایت
حیدرآباد۔19 فبروری (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج مختلف شعبہ جات کی عدم کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے کائونٹرس داخل کرنے میں لیگل سیکشن کے تساہل پر سرزنش کی اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اندرون تین یوم ریاست بھر میں زیر التوا مقدمات اور کائونٹرس کے ادخال کے موقف کی تفصیلات پیش کریں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے شہر اور اضلاع میں وقف انسپکٹرس آڈیٹرس کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور سست رفتار کارکردگی کے حامل چھ انسپکٹرس کے تبادلے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی کو ہدایت دی کہ تمام شعبہ جات کی ایک سالہ رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے اوقافی جائیدادوں سے متعلق سینکڑوں مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر دوران ہیں۔ وقف بورڈ کا لیگل سیکشن کائونٹر داخل کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے جس کے نتیجہ میں کئی مقدمات کے فیصلے غیر مجاز قابضین کے حق میں ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیگل سیکشن سے وابستہ افراد کے تساہل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعض گوشوں سے شکایات ملی ہیں کہ لیگل سیکشن کے ذمہ دار جان بوجھ کر کائونٹرس داخل کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ محمد سلیم نے کائونٹرس کی تیاری کے لیے ریٹائرڈ جج کی خدمات حاصل کرنے کے باوجود انہیں اہم مقدمات کی ذمہ داری نہ دیئے جانے پر برہمی ظاہر کی اور کہا کہ ریٹائرڈ جج کو حیدرآباد اور رنگاریڈی کے اہم مقدمات تفویض کیے جائیں۔ انہوں نے الزامات کا سامنا کرنے والے ریٹائرڈ سی ای او کو کائونٹر داخل کرنے کی ذمہ داری دیئے جانے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ جس سابق عہدیدار پر تحقیقات زیر التوا ہیں انہیں فوری خدمات سے علیحدہ کیا جائے یا پھر ان کی جانب سے تیار کیے گئے کائونٹرس کی دوبارہ جانچ کی جائے۔ ایک مرحلہ پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی نے کہا کہ اگر ان کی کارکردگی سے بورڈ مطمئن نہیں تو وہ متعلقہ محکمہ واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے منان فاروقی تمام شعبہ جات پر اپنا کنٹرول رکھیں اور ہر شعبہ کی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ 24 فبروری کو بورڈ کی تشکیل کا ایک سال مکمل ہوگا اور اسی دن بورڈ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے محبوب نگر، رنگاریڈی، سنگاریڈی، کھمم، نلگنڈہ اور عادل آباد کے وقف انسپکٹرس کے تبادلوں کی ہدایت دی۔ انہوں نے حج ہائوز کے احاطہ میں موجود ہورڈنگس کے کرایہ کی عدم وصولی پر پراجیکٹ سیکشن کی سرزنش کی۔ انہیں بتایا گیا کہ تین ہورڈنگس کا کرایہ صرف 44 ہزار روپئے ہے جو طویل عرصہ سے ادا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ہورڈنگس کا استعمال کرنے والی تمام کمپنیوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی۔ حج ہائوز کے علاوہ شہر میں جہاں کہیں اوقافی جائیدادوں پر تشہیری ہورڈنگس ہیں ان کا کرایہ مقرر کیا جائے گا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے کہا کہ جو شعبہ جات اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر ہیں انہیں وجہ نمائی نوٹس جاری کی جائے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے شعبہ جات لیگل، اسٹابلشمنٹ، پروٹیکشن، اکائونٹس، لینڈ اکویزیشن پراجیکٹ، رینٹ، سروے، کمپیوٹر اور ڈائرکٹر منیجمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے کرایوں کی وصولی میں تیزی پیدا کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کلکشن کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ اجلاس کے بعد چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی نے تمام متعلقہ شعبہ جات کو ہدایت دی کہ وہ اندرون تین یوم اپنی کارکردگی کی تفصیلات پیش کردیں تاکہ اس کو 24 فبروری کے اجلاس میں پیش کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT