Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے من مانی فیصلوں کی تحقیقات میں رکاوٹ

وقف بورڈ کے من مانی فیصلوں کی تحقیقات میں رکاوٹ

سکریٹری اقلیتی بہبود کو ہنوز تفصیلات روانہ نہیں کی گئیں۔ خامیوں کی پردہ پوشی کی کوشش
حیدرآباد ۔ 25۔ اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے من مانی فیصلوں کے خلاف حکومت کی تحقیقات میں عہدیداروں کے عدم تعاون رویہ سے رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ حکومت نے ریاست کی بعض اہم درگاہوں کے انتظامات اوپن آکشن کے بجائے نامینیشن کی بنیاد پر معمولی رقم کے عوض کنٹراکٹ پر حوالہ کرنے کے معاملات کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ ہفتہ وقف بورڈ کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو درگاہوں کے آکشن سے متعلق تمام تفصیلات روانہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بتایاجاتا ہے کہ ابھی تک بورڈ کی جانب سے سکریٹری اقلیتی بہبود کو تفصیلات روانہ نہیں کی گئی ، جس کے باعث وہ تحقیقات کے آغاز سے قاصر ہیں۔ واضح رہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے پاس منعقدہ جائزہ اجلاس میں ان شکایتوں کا جائزہ لیا گیا اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی۔ حکومت کا استدلال ہے کہ اگر تحقیقات میں وقف بورڈ کا اقدام غیر قانونی پایا گیا تو حکومت انتظامات کے کنٹراکٹ کو منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ نے اپنی خامیوں کو چھپانے کیلئے حکومت سے عدم تعاون کا موقف اختیار کیا ہے اور وقف بورڈ کے عہدیدار اس میں تعاون کر رہے ہیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر اگرچہ حکومت کے نمائندہ کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں وہ بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ نے حالیہ عرصہ میں درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ ، درگاہ جان پاک شہیدؒ اور دیگر دو درگاہوں کے انتظامات معمولی رقم پر کنٹراکٹر کے حوالے کئے گئے۔ اس فیصلہ سے وقف بورڈ کو لاکھوں روپئے نقصان کا اندیشہ ہے۔ شبہ کیا جارہا ہے کہ ان فیصلوں میں لاکھوں روپئے کی معاملہ داری ہوئی ہے اور بعض ارکان اور عہدیداروں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

ایسے وقت جبکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے ، اس طرح نقصان پہنچانے کے فیصلے عوام میں مختلف سوالات پیدا کر رہے ہیں۔ بورڈ کے ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں اور آمدنی میں تقریباً 50 لاکھ روپئے کا فرق ہے ۔ اس فرق کو کم کرنے کے بجائے بورڈ کے ارکان مزید نقصان پہنچانے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وقف بورڈ کی جانب سے سکریٹری اقلیتی بہبود کو تفصیلات کب تک روانہ کی جائے گی۔ وقف بورڈ کی تشکیل کو اگرچہ 8 ماہ گزر چکے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلوں کے سلسلہ میں صدرنشین سے زیادہ ایک مخصوص رکن کی اہمیت ہے۔ زیادہ تر فیصلوں میں ان کی مداخلت کی اطلاعات ملی ہے اور وہ اکثر و بیشتر چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے اینٹی روم میں فائلوں کے درمیان دکھائی دیتے ہیں۔ صدرنشین نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو مخصوص ارکان کے ساتھ معاملہ داری کے سلسلہ میں آگاہ کیا۔ اس کے باوجود مذکورہ رکن کے دباؤ کے آگے عہدیدار بے بس نظر آرہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیصلوں میں تعاون نہ کرنے پر عہدیدار اور ملازمین کو تبادلوں کا خوف دلایا جارہا ہے ۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ وہ بورڈ کی منظوری کے بغیر کوئی بھی ایسا فیصلہ ہونے نہیں دیں گے جس سے ادارہ کی نیک نامی متاثر ہو۔ محمد سلیم نے کہا کہ انہوں نے خالص عوامی خدمت کے جذبہ کے تحت اس عہدہ کی ذمہ داری کو قبول کیا ہے اور وہ اپنے خرچ سے چائے اور پانی کا انتظام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مختلف گوشوں سے ملنے والی شکایات کا جائزہ لیں گے۔

TOPPOPULARRECENT