Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں /  !وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے اختیارات پر اعتراضات

 !وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے اختیارات پر اعتراضات

سکریٹری اقلیتی بہبود کے خلاف تحقیقات کا مسئلہ ، محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ میں موضوع بحث
حیدرآباد ۔ 10۔ اکتوبر (سیاست نیوز) کیا وقف بورڈ کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو سکریٹری اقلیتی بہبود کے خلاف تحقیقات کا اختیار حاصل ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو ان دنوں محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ وقف بورڈ نے 25 ستمبر کو اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ گزشتہ تین برسوں میں جو فیصلے کئے گئے، ان کی جانچ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے ذریعہ کرائی جائے اور منان فاروقی اپنی رپورٹ بورڈ کے آئندہ اجلاس میں پیش کریں۔ بورڈ کے آئندہ اجلاس کی تاریخ 16 اکتوبر مقرر کی گئی ہے اور بورڈ کی ہدایت کے مطابق چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو اپنی رپورٹ اس اجلاس میں پیش کر نی ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران کئی سینئر عہدیدار اسپیشل آفیسر یا عہدیدار مجاز کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر رتبہ کے عہدیدار کے لئے اعلیٰ عہدیداروں کی جانچ کرنا کسی بھی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ بورڈ کے فیصلہ کو منان فاروقی نے قبول تو کرلیا لیکن جب زمینی حقیقت کا پتہ چلا تو وہ خود تذبذب کا شکار ہے کہ تحقیقات کا آغاز کہاں سے اور کس طرح کیا جائے۔ اگر حالیہ عرصہ کے معاملات کی تحقیقات پر اکتفا کیا جائے تو انہیں موجودہ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کے خلاف جانچ کرنی ہوگی۔ ان کے علاوہ سابق چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ بھی وقف بورڈ کے بعض ارکان کے نشانہ پر ہیں۔ بورڈ نے جس مدت کے فیصلوں کی جانچ کی ہدایت دی ہے، اس دور کے عہدیدار منان فاروقی کی جانب سے نوٹس کی اجرائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے اس معاملہ میں ماہرین قانون سے رائے طلب کی ہے تاکہ کسی تنازعہ سے بچ سکیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بورڈ کے بعض ارکان نے منان فاروقی کو قربانی کا بکرا بنادیا اور انہیں اعلیٰ عہدیداروں میں برا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کیا اپنے سکریٹری کے خلاف تحقیقات کا آغاز کریں گے ؟ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے بعض ارکان کا اصل نشانہ سابق چیف اگزیکیٹیو آفیسر ہیں ، جنہوں نے بعض ارکان کی من مانی کو روکنے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ انہیں نشانہ بنانے کیلئے بورڈ نے گزشتہ تین برسوں کے فیصلوں کی جانچ کا جو فیصلہ کیا ، وہ بورڈ کے لئے الٹا پڑسکتا ہے۔ کسی بھی عہدیدار کے خلاف تحقیقات کے آغاز کی صورت میں حکومت اور بورڈ کے درمیان راست ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 16 اکتوبر کو منان فاروقی بورڈ کو تحقیقات کے سلسلہ میں کیا جواب داخل کریں گے ۔ اطلاعات کے مطابق منان فاروقی نے پہلے ہی بورڈ سے اس بات کی خواہش کی ہے کہ ان کی خدمات متعلقہ محکمہ کو واپس کردی جائیں کیونکہ وہ دباؤ کے تحت کام نہیں کرسکتے۔ اگر انہیں وقف ایکٹ کے تحت کام کرنے سے روکا جائے گا تو وہ طویل رخصت حاصل کرتے ہو ئے خدمات واپس کرنے پر مجبور کردیں گے۔

TOPPOPULARRECENT